رسائی کے لنکس

logo-print

27 حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی منظوری


انتخابات کے بعد پاکستان الیکشن کمشن کا عملہ نتائج مرتب کر رہا ہے۔

الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کی جانب سے دی جانے والی درخواستوں پر قومی و صوبائی اسمبلیوں کے 27 حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی منظوری دیدی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق قومی اسمبلی کے 30 حلقوں میں 16 لاکھ سے زائد ووٹ مسترد ہوئے۔ انتخابات 2018 میں 5 کروڑ 43 لاکھ 19 ہزار 9 سو 22 ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا جس میں سے مختلف وجوہات کے باعث 16 لاکھ 63 ہزار 39 ووٹ مسترد کر دیے گئے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق قومی و صوبائی اسمبلیوں کے 27 حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی منظوری دے دی گئی ہے۔ دوبارہ گنتی کی اجازت فارم 49 موصول نہ ہونے کے باعث دی گئی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 57 راولپنڈی، این اے 158 ملتان، این اے 110 فیصل آباد، این اے 129 لاہور، این اے 15 ایبٹ آباد، این اے 10 شانگلہ، این اے 170 بہاولپور، این اے 159 ملتان، این اے 118 ننکانہ صاحب، این اے 140 قصور، این اے 188 لیہ، این اے 117 ننکانہ صاحب میں دوبارہ گنتی کی اجازت دی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 290، 291 اور 292 ڈی جی خان سمیت پی کے 36 ایبٹ آباد اور پی ایس 32 بدین میں دوبارہ گنتی کی اجازت دی ہے۔ اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے 37 قومی و صوبائی حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست مسترد کردی۔

دوسری جانب انتخابات کے دوران معمولی غلطیوں کی بنا پر لاکھوں ووٹ ضائع ہوگئے ہیں۔

مجموعی طور پر مسترد شدہ ووٹوں کی شرح سب سے زیادہ بلوچستان میں 5.66 فیصد رہی جبکہ سندھ میں 3.87 فیصد، خیبر پختونخوا میں 3.35 فیصد اور پنجاب میں 2.67 فیصد رہی۔ حلقے کے اعتبار سے سب سے زیادہ ووٹ این اے 86 (منڈی بہاؤالدین- ٹو) میں مسترد ہوئے جن کی تعداد 15 ہزار 5 سو 68 تھی جبکہ این اے 197 (کشمور) میں 15 ہزار 340 ووٹ مسترد ہوئے۔

کراچی کی مختلف نشستوں پر ڈالے جانے والے مجموعی طور پرایک لاکھ 14 ہزار 4 قیمتی ووٹ ضائع ہوگئے۔ کئی نشستیں ایسی بھی ہیں جہاں ووٹ مسترد نہ کیے جاتے تو نتائج تبدیل ہوسکتے تھے۔

کراچی کی 21 قومی اسمبلی کے حلقوں پر مختلف وجوہات کی بنا پر 55 ہزار 430 ووٹ مسترد کیے گئے۔ این اے 246 نمایاں رہا جہاں سب سے زیادہ 3 ہزار 468 ووٹ مسترد ہوئے مگر یہاں فتح حاصل کرنے اور دوسرے نمبر پر آنیوالے امیدوار کے درمیان 10 ہزار 405 ووٹ کا نمایاں فرق ہے لیکن این اے 239 میں یہ معاملہ کچھ مختلف رہا۔ اس حلقے میں 3 ہزار 281 ووٹ ضائع ہوگئے مگر یہاں جیتنے اور دوسرے نمبر پر آنے والے امیدوار کے ووٹوں کا فرق صرف 336 ووٹ ہے۔ اگر ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا درست طریقے سے استعمال کرتے تو نتیجہ کچھ اور بھی ہوسکتا تھا۔

این اے 249 میں بھی کچھ اسی طرح کی صورتحال رہی جہاں پی ٹی آئی کے امیدوار فیصل واوڈا نے صرف 718 ووٹ کے فرق سے مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف کو شکست دی اور یہاں مختلف غلطیوں کی وجہ سے 2 ہزار 684 ووٹ مسترد کیے گئے جن کی درستگی نتائج تبدیل کرسکتی تھی۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابات کے دوران دوبارہ گنتی کرنے کے اعلان سے کئی حلقوں پر نتائج تبدیل ہونے کا بھی امکان ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG