رسائی کے لنکس

'ووٹ خریدنا اور فروخت کرنا جرم ہے، سیاسی جماعتیں تعاون کریں'


وزیرِ مملکت مریم اورنگزیب نے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن اس معاملے کی تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور انٹیلی جنس ایجنسیوں سے معاونت لے۔

پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا نے کہا ہے کہ ووٹ بیچنا اور خریدنا ایک سنگین جرم ہے لہذا تمام سیاسی جماعتیں سینیٹ انتخابات میں مبینہ 'ہارس ٹریڈنگ' سے متعلق تحقیقات میں کمیشن کی مدد کریں۔

سینیٹ کے انتخابات میں مبینہ ہارس ٹریڈنگ سے متعلق اطلاعات پر لیے جانے والے نوٹس کی سماعت بدھ کو چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن اسلام آباد میں کی۔

کمیشن نے اس ضمن میں اپنی معاونت کے لیے آٹھ قانون سازوں کو طلب کر رکھا تھا۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کی طرف سے ان کے وکیل شاہد گوندل جب کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما فاروق ستار کی جانب سے وکیل اقبال قادری پیش ہوئے۔

وزیرِ مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب بھی سماعت کے دوران اپنی جماعت مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ موجود تھیں۔

شاہد گوندل نے بینچ کو بتایا کہ پاکستان تحریکِ انصاف نے پہلے ہی اس معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس کا کام مکمل ہوتے ہی وہ رپورٹ کمیشن میں جمع کرا دیں گے۔

ایم کیو ایم کے وکیل کا کہنا تھا کہ پارٹی نے تحریری دستاویزات جمع کرا دی ہیں۔

اس دوران وزیرِ مملکت مریم اورنگزیب نے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن اس معاملے کی تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور انٹیلی جنس ایجنسیوں سے معاونت لے۔

اس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کمیشن ایسا بھی کرے گا اور ان کے بقول کمیشن چاہتا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اس کی مدد کریں۔

مختصر سماعت کے بعد آئندہ کارروائی چار اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے کمیشن نے ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگانے والے اراکین اور پارٹی سربراہان سے شواہد پیش کرنے کا کہا۔

الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہتے ہیں کہ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کمیشن نے ہارس ٹریڈنگ سے متعلق تحفظات اور الزامات پر توجہ دیتے ہوئے ثبوت مانگے ہیں لیکن اس کی تہہ تک پہنچنا تقریباً ناممکن ہے۔

"اس کا ثبوت پیش کرنا بڑا مشکل ہے. اب اگر یہ معلوم ہو جائے کہ کسی سینیٹر نے ہارس ٹریڈنگ کی تو پھر دونوں نااہل ہو جائیں گے۔ (پیسے) دینے والا بھی اور لینے والا بھی کرپشن ایکٹ کے تحت قومی مجرم ہوں گے۔ تو کوئی بھی نام تو نہیں بتائے گا۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کے پاس جو اختیارات ہیں وہ ایف آئی اے، ایف بی آر اور نیب کی خدمات حاصل کر کے ان کے اثاثوں کی باقاعدہ جانچ پڑتال کر سکتا ہے۔ تب جا کر کسی نہ کسی تہہ تک پہنچیں گے لیکن یہ مشکل ہے۔ ناممکن ہے۔"

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ اس سارے عمل سے آئندہ کے لیے ہارس ٹریڈنگ رک جائے اور لوگوں میں ایسا کرنے سے متعلق کوئی خوف پیدا ہو سکے۔

تین مارچ کو ہونے والے سینیٹ انتخابات کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کی جماعت کے خیبر پختونخوا اسمبلی کے بعض ارکان نے "پیسے لے کر اپنا ووٹ بیچا" جس کی تحقیقات کی جائیں گی۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور متحدہ قومی موومنٹ کے علاوہ جماعتِ اسلامی کی طرف سے بھی سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگائے گئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG