رسائی کے لنکس

logo-print

ایکواڈور: پُرتشدد مظاہروں کے بعد دارالحکومت کے انتظامی امور منتقل


صدر مورینو نے ایمرجنسی کے نفاذ کے اعلان کے بعد حکومتی معاملات ساحلی شہر گوایاچیل منتقل کردیے۔

برِاعظم جنوبی امریکہ کے ملک ایکواڈور میں پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے خاتمے کے خلاف پرتشدد احتجاج کے بعد حکومت نے دارالحکومت میں ہنگامی حالت نافذ کردی ہے۔ جب کہ پولیس کے کریک ڈاؤن کے دوران سیکڑوں مظاہرین کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ایکواڈور میں صدر لینن مورینو کی کفایت شعاری مہم کے خلاف سیکڑوں افراد گزشتہ چھ روز سے دارالحکومت کوئٹو میں احتجاج کر رہے ہیں۔

ملک میں احتجاج اس وقت شروع ہوا جب تین اکتوبر کو حکومت نے انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ (آئی ایم ایف) سے چار اعشاریہ دو بلین ڈالر کا قرضہ لینے کے لیے عوام کو کئی دہائیوں سے حاصل پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کردی تھی۔

منگل کو احتجاج کے دوران متعدد مظاہرین حفاظتی حصار توڑتے ہوئے قومی اسمبلی کی عمارت میں داخل ہوگئے اور وہاں پرچم لہراتے ہوئے 'ہم عوام ہیں' کے نعرے لگاتے رہے۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ صدر مورینو اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ صدر مورینو اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ چہرے پر ماسک اور ہاتھوں میں لاٹھیاں تھامے مظاہرین کو سیکیورٹی اہلکاروں نے روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے سنگ باری شروع کردی جس کے جواب میں اُن پر آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔ جب کہ جھڑپوں کے دوران 19 شہری اور پولیس کے 43 اہلکار زخمی ہوئے۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر چھوٹ بحال کی جائے اور صدر لینن مورینو اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ تاہم صدر مورینو نے مظاہرین کا مطالبہ ماننے سے انکار کردیا ہے۔

مقامی ٹی وی چینل کو منگل کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں صدر مورینو نے کہا کہ جب وہ درست فیصلے کر رہے ہیں تو صدارت سے استعفیٰ دینے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔

صدر مورینو نے ایمرجنسی کے نفاذ کے اعلان کے بعد حکومتی معاملات ساحلی شہر گوایاچیل منتقل کردیے۔ جہاں حالات قدرے بہتر بتائے جاتے ہیں۔

مظاہرین قومی اسمبلی کی عمارت میں داخل ہوگئے اور وہاں بھی احتجاج کیا۔
مظاہرین قومی اسمبلی کی عمارت میں داخل ہوگئے اور وہاں بھی احتجاج کیا۔

لاطینی امریکی ملک پیرو کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایکواڈور کے صدر کو سات لاطینی ملکوں کی حمایت حاصل ہے جن میں برازیل، ارجنٹینا اور پیرو شامل ہیں جب کہ ایکواڈور کی حکومت ثالثی کے لیے اقوام متحدہ یا رومن کیتھولک چرچ کی طرف دیکھ رہی ہے۔

صدر مورینو کا کہنا ہے کہ ان کے اقدامات اُنہیں سابق صدر رافیل کوری سے وراثت میں ملنے والے مالیاتی خسارے میں کمی لانے کے لیے ہیں۔

صدر مورینو اپنے پیشرو پر عوام کے پیسے کا غلط استعمال کرنے سمیت نامکمل ہونے والے غیر ضروری ترقیاتی کاموں کو چھوڑنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔

اُن کے بقول، "عوام نے مجھے منصب صدارت تک پہنچایا ہے تاکہ میں ان کے مسائل کرسکوں۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ایکواڈور کے عوام کے مسائل کو سمجھیں۔"

حکام کا کہنا ہے کہ 600 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں قانون ساز بھی شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ 600 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں قانون ساز بھی شامل ہیں۔

حکام کے مطابق حکومت مخالف احتجاج کرنے والے تقریباً 680 افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے جس میں سابق صدر رافیل کوری کے حمایت یافتہ قانون ساز بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ صدر مورینو کئی دہائیوں تک سابق صدر کوری کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ اور 2017 میں کوری کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہونے والے انتخابات میں کامیابی کے بعد اُنہوں نے رافیل کوری سے راہیں جدا کرلی تھیں۔

ایکواڈور کے سابق صدر رافیل کوری ان دنوں بیلجئم میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG