رسائی کے لنکس

سندھ میں تعلیمی اصلاحات میں تیزی وقت کی ضرورت


پاکستان کے صوبے سندھ میں تعلیم کوزیادہ سے زیادہ عام کرنے اورمعیارتعلیم کوبہتربنانے کے لئے صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ مختلف این جی اوز بھی کام کررہی ہیں اور ایسی ہی ایک تنظیم ’الف اعلان‘ بھی ہے۔

صوبائی نظام تعلیم کودرپیش مسائل،چیلنجز اور اصلاحات کے نفاذ وپیشرفت اورمستقبل میں صورتحال کوبہتربنانے کے بارے میں’ الف اعلان‘ نے ایک رپورٹ ’سندھ ونز،لاسز اینڈ چیلنجز فوردا فیوچر2018تا 2023جاری کی ہے جس کے معاون مصنف پاکستانی سنگر اورتعلیم کے شعبے میں کام کرنے والے سماجی کارکن شہزاد رائے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حکومت سندھ نے تعلیمی نظام میں بہتری لانے اورخامیاں دورکرنے کے لئے متعدد اصلاحات کی ہیں لیکن اصلاحات پرعملدرآمد میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔

سندھ کے شعبہ تعلیم کے پانچ سالہ منصوبے میں پانچ بنیادی مقاصد پرتوجہ مرکوزکی گئی ہے جن میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کوتعلیم کی فراہمی،معیارتعلیم کوبہتربنانا، تعلیمی شعبے کی موثر نگرانی اوراحتساب اورتعلیمی ادارے میں سرمایہ کاری شامل ہیں۔

ان مقاصد کے حصول کے لئے صوبائی حکومت نے اصلاحات اورکوششیں کیں ہیں۔رپورٹ کے مطابق حکومتی کوششوں میں رئیل ٹائم مانیٹرنگ ،میرٹ پر بھرتیاں، اساتذہ کی ٹریننگ، سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ پروگرامز،لرننگ لیولزکی ٹیسٹنگ اورتعلیمی شعبے میں فنڈنگ کا بڑھانا شامل ہیں۔

ان تمام کوششوں اوراصلاحات کے باوجود سندھ حکومت کے تعلیمی پلان 2014-18کے اہداف کی مکمل تکمیل کے لئے بہت سا کام کرنا باقی ہےکیونکہ سال2018جاری ہے اس لئے یہ بات تو تقریباً یقینی ہے کہ پانچ سال کی مدت کے لئے طے کردہ تمام اہداف حاصل نہیں کئے جاسکیں گے۔

اسی صورتحال کے پیش نظر ضروری ہے کہ مستقبل کے اہداف کوپانے کے لئے زیادہ موثر اورتیز رفتاراقدامات کئے جائیں۔

رپورٹ کی لانچنگ تقریب کے پینل کے شرکا میں صوبائی وزیرتعلیم جام مہتاب ڈاہربھی موجودتھے جنہوں نے تعلیمی شعبے میں سندھ حکومت کی کامیابیوں اورتعلیمی شعبے کو درپیش چیلنجز کا ذکرکیاجبکہ صادقہ صلاح الدین،نیلوفرہالائی،امین ہاشوانی ،شہزادرائے اورجامی چانڈیوبھی پینل کا حصہ تھے۔

XS
SM
MD
LG