رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی اسکول کے لیے اسکالرشپ منصوبے میں توسیع


حکومت اسکاٹ لینڈ کی وظیفہ اسکیم کے تحت، پاکستان میں 14,00 اسکول طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو سنوارنے میں مدد دی گئی ہے، جبکہ رواں برس اسکالرشپ پروگرام کو مزید جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے

اسکاٹ لینڈ کی حکومت نے پاکستان میں نادار اسکول طلبہ کے تعلیمی وظائف کے منصوبے میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔

اس وظیفہ اسکیم کے تحت، پاکستان میں 14,00 اسکول طلبہ کے مستقبل کو بہتر بنانےمیں مدد کی گئی ہے، جبکہ رواں برس اسکالرشپ پروگرام کو مزید جاری رکھنےکا اعلان کیا گیا ہے۔

اسکاٹش حکومتی ذرائع کے مطابق، گلاسگو میں سینٹ البرٹ پرائمری اسکول میں منعقدہ تقریب میں بین الاقوامی ترقی کے وزیر حمزہ یوسف نے وظیفہ اسکیم سےفائدہ حاصل کرنے والے پاکستانی طالب علموں کی انعامی تقریب میں ویڈیو لنک کےذریعے شرکت کی؛ اور نئے سال کے لیےتعلیمی وظائف کےمنصوبے کی توسیع کا اعلان کیا۔

تقریب کا انعقاد ڈیجیٹل لرننگ ہفتے کے موقع پر ہوا۔ اس موقع پر، گلاسگو اسکول اور پنجاب میں حکومت کے پائلٹ سکینڈری اسکول کے طلبہ کے درمیان ویڈیو لنک قائم کیا گیا، جس میں پاکستانی طلبہ کو بتایا گیا کہ کیسے اسکاٹ لینڈ کے اسکولوں میں طلبہ اور اساتذہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں؛ اور اسکولوں میں ٹیکنالوجی کو کس طرح تدریس کی اعانت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

طلبہ نے اس موقع پر پاکستان میں وظائف حاصل کرنے والے بچوں کو مبارکبادیں بھی پیش کیں۔

بتایا گیا ہے کہ سینٹ البرٹ پرائمری اسکول میں پاکستانی پس منظر کے حامل بچوں کی تعداد دوسرے اسکولوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔

اسکاٹش حکومت نے برٹش کونسل کی طرف سے شروع کئےجانے والے وظیفے کے منصوبےکے لیے مارچ 2014 میں 110,000 پونڈ کا فنڈ فراہم کیا تھا۔ مزیدبرآں، اسکاٹش حکومت کی جانب سے وظیفہ پروگرام کے لیے مزید اتنا ہی فنڈ جاری کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

گذشتہ برس وظیفہ کی اسکیم کی مدد سےمجموعی طور پر پاکستان میں 1448 اسکول کے بچوں کو وظائف جاری کئے گئے، وظیفے کی رقم کو اسکول کےبچوں کی ٹیوشن فیس ،کتابیں ،یونیفارم اور نقل وحمل کے اخرجات کی ادائیگی میں استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ تعلیمی وظیفہ خاص طور پر بے سہارا اور یتیم بچوں اور ایسے گھرانوں کے بچوں کی مدد کرنے کے لیے ہے جن کے والدین کی ماہانہ آمدنی 60 پونڈ سے کم ہے۔ تاہم ذرئع کے مطابق وظیفہ حاصل کرنے والوں میں لڑکیوں کی تعداد 53 فیصد ہے ۔

بین الااقوامی ترقی کے وزیرحمزہ یوسف نےاپنے بیان میں کہا کہ اسکاٹش حکومت کی پاکستان کے ساتھ طویل مشترکہ تاریخ رہی ہے اور آج سینٹ البرٹ اسکول کے بہت سےبچوں سے ملنے کےبعد پتہ چلا ہے کہ ان کے پاکستان میں خاندانی روابط ہیں اورویڈیو لنک کے ذریعے دونوں ملکوں کے بچوں کو ایک دوسرے کی زندگیوں کے بارے میں سیکھنے کا موقع ملے گا

ان کا مزید کہنا تھا کہ تعلیم انسان کا بنیادی حق ہے ۔لیکن بد قسمتی سے دنیا بھر میں 56 ملین بچے اسکول جانے کے قابل نہیں ہیں جبکہ صرف پاکستان بھر میں 50 لاکھ یا لگ بھگ اسکاٹ لینڈ کی مجموعی آبادی کےبرابر بچےغربت ،سلامتی کی صورت حال اور قدرتی آفات کے نتیجے میں اسکولوں سے محروم ہیں ۔

XS
SM
MD
LG