رسائی کے لنکس

logo-print

'پاکستان کے لیے مالی امداد کی بندش محض آغاز ہے'


سنہ 2018 کا سورج طلوع ہوتے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی ٹویٹ میں کہا کہ گزشتہ 15 برسوں میں امریکی صدور نے احمقانہ طور پر پاکستان کو 33 ارب ڈالر کی خطیر امداد دی لیکن اس کے جواب میں پاکستان نے امریکہ کو جھوٹ اور دھوکے کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ اس ٹویٹ کے بعد اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل مندوب نکی ہیلی نے اعلان کیا کہ امریکہ پاکستان کیلئے کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں مختص 255 ملین ڈالر کی رقم روک رہا ہے اور پاکستان کو فراہم نہیں کی جائے گی۔

اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ کی ٹویٹ کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار پاکستان کے خلاف تادیبی کارروائیوں پر غور کر رہے ہیں تاکہ پاکستان کو ملک کے اندر بعض دہشت گرد گروپوں کے مبینہ محفوظ ٹھکانے ختم کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔

پاک امریکہ تعلقات کے ایک معروف ماہر ڈاکٹر وائن بام کا کہنا ہے کہ اُن کے خیال میں یہ معاملہ ضرورت سے زیادہ آگے چلا گیا ہے جو اب دونوں ملکوں کیلئے نقصان دہ ہو گا۔ اُنہوں نے کہا کہ صورت حال جس نہج پر پہنچ چکی ہے اُس سے توقع یہی کی جانی چاہئیے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کیلئے تمام تر فوجی امداد بند کر دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

پاکستان کے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ نے وائس آف امریکہ اُردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی امداد پاکستان کیلئے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ 15 سال کے دوران پاکستان کو 33 بلین ڈالر امداد کا ذکر کیا گیا ہے۔ پاکستان کا سالانہ بجٹ 80 بلین ڈالر کے لگ بھگ ہے اور پاکستان کے جی ڈی پی کو مد نظر رکھا جائے تو یہ امریکی امداد اُس کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔ یوں 15 سال کے عرصے میں جو مالی رقوم موصول ہوئی ہیں وہ پاکستان کے صرف پانچ ماہ کے خرچے کے برابر ہے جو زیادہ نہیں ہے۔

ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا کہ امریکی امداد کی بندش کے اثرات زیادہ تر علامتی ہی ہیں کیونکہ پاکستان اور امریکہ گزشتہ 70 سال سے ایک دوسرے کے اتحادی رہے ہیں اور ان کے رشتوں میں پڑنے والی دراڑ مالی تعاون سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ ڈاکٹر سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس اب مزید آپشنز بھی موجود ہیں اور دنیا کے حالات بھی بدل رہے ہیں۔ لہذا پاکستان پر کوئی خاطر خواہ اثرات مرتب ہونے کا امکان کم ہے۔

پاک۔ امریکہ تعلقات کے ماہر شجاع نواز نے وائس آف امریکہ اُردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کولیشن فنڈ کو تسلیم کرنا سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی غلطی تھی کیونکہ پاکستان کو افغانستان کی صورت حال اور خود پاکستان میں مسلسل جاری رہنے والی دہشت گردی سے ایک سو ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے اور امریکہ سے کولیشن فنڈ کے تحت ملنے والی امریکی رقوم سے اُس کی تلافی نہیں ہو سکتی تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ اب 2017 اور2018 کیلئے امریکہ نے صرف 300 ملین ڈالر کے لگ بھگ مالی تعاون کا وعدہ کیا ہے جو پاکستان کیلئے بہت ہی قلیل رقم ہے۔ اس کے مقابلے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں کم ہو جانے سے پاکستان پہلے ہی ساڑھے سات بلین ڈالر کی رقم بچا رہا ہے۔ لہذا پاکستان کو خود ہی امریکہ سے امدادی رقوم لینے سے انکار کر دینا چاہئیے تھا۔

شجاع نواز نے یہ بھی کہا کہ آنے والے دنوں میں امریکی انتظامیہ پاکستان کے فوجی عہدے داروں پر سفری پابندیاں بھی عائد کر سکتی ہے۔

امریکی کانگریس کیلئے کام کرنے والی تنظیم کانگریشنل ریسرچ سروس یعنی CRS کا کہنا ہے کہ گزشتہ 15 سال کے دوران پاکستان کو فراہم کی گئی 33 بلین ڈالر کی اس رقم میں 14.5 بلین ڈالر کوالیشن اسپورٹ فنڈ کیلئے تھے جو تیکنکی اعتبار سے مالی امداد کے زمرے میں نہیں آتے کیونکہ یہ امریکی افواج کی سربراہی میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کیلئے پاکستان کی طرف سے لاجسٹکل اور آپریشنل تعاون فراہم کرنے کے اخراجات کی ادائیگی کیلئے تھے۔ تاہم اس کا بڑا حصہ پاکستان کی طرف سے حقانی نیٹ ورک اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف امریکہ کی منشا کے مطابق کارروائیوں سے مشروط تھا جس کے کانگریس کی طرف سے ریلیز کیلئے امریکی انتظامیہ کی تصدیق لازمی تھی۔

پاکستان کو 2015 میں ایک بلین ڈالر کی امداد میں سے 300 ملین ڈالر اور پھر 2016 میں 900 ملین ڈالر کی امداد میں سے 350 ملین ڈالر روک لئے گئے تھے کیونکہ امریکی انتظامیہ نے اس سلسلے میں تصدیق نامہ جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

امریکہ نے 1947 میں قیام پاکستان کے فوراً بعد سے پاکستان کو اقتصادی امداد دینا شروع کر دی تھی جس کے کچھ عرصے بعد فوجی امداد کا بھی آغاز ہو گیا۔ 1947 سے اب تک گزشتہ 70 برس کے عرصے میں امریکہ نے پاکستان کو جو مالی اور مادی مدد فراہم کی ہے اُس کا مجموعی تخمینہ 67 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔

تاہم یہ امداد مسلسل جاری نہیں رہی بلکہ اس خطے میں امریکہ کے جیو پولیٹکل مفادات کے مطابق امداد کی فراہمی جاری اور معطل ہوتی رہی۔ مثال کے طور پر 1990 کی دہائی کے دوران پاکستان کی طرف سے جوہری تجربات کے نتیجے میں امریکہ نے تمام تر امداد مکمل طور پر بند کر دی حتیٰ کہ پاکستان میں USAID کے دفاتر بھی بند کر دئے۔

امداد کی فراہمی کی متعدد بار بندش کے باعث امریکہ بڑی حد پاکستان کیلئے قابل اعتماد ساتھی کی حیثیت برقرار نہیں رکھ پایا۔ امریکی امداد باضابطہ طور پر 1951 میں 2.89 ملین ڈالر سے شروع ہوئی اور 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملے کے بعد 2002 سے امریکہ کی افغانستان میں جنگ کے حوالے سے اس امداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 2.6 بلین ڈالر تک پہنچ گئی۔

یہ ایسا وقت تھا جب امریکہ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغانستان میں کارروائیوں کے سلسلے میں پاکستان کی مدد کی ضرورت تھی۔ تاہم اس میں بتدریج کمی واقع ہوتی گئی اور گزشتہ سال یہ کم ہو کر صرف 526 ملین ڈالر رہ گئی جس میں سے 223 ملین ڈالر اقتصادی شعبے کیلئے تھی جبکہ 303 ملین ڈالر سیکورٹی سے متعلقہ اُمور کیلئے مختص تھی۔ سیکورٹی کے حوالے سے اس امداد کا بڑا حصہ یعنی 255 ملین ڈالر کولیشن سپورٹ فنڈ کیلئے تھا۔ یہ فنڈ اُن اخراجات کی واپسی کیلئے مخصوص تھا جو پاکستان کی مسلح افواج امریکہ کی درخواست پر اُس کیلئے مختلف کارروائیوں پر خرچ کرتی تھی۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے کولیشن سپورٹ فنڈ کی یہ پوری کی پوری رقم روک لی ہے۔ یوں حقیقی طور پر 2017 میں امریکہ سے پاکستان کو کل 271 ملین ڈالر کی امداد موصول ہوئی۔

موجودہ سال 2018 میں پاکستان کیلئے جس مالی تعاون کی منظوری دی گئی ہے، وہ مزید کم ہو کر صرف 345 ملین ڈالر رہ گئی ہے جس میں سے 211 ملین اقتصادی شعبے کیلئے اور 134 ملین سیکورٹی کے شعبے کیلئے مخصوص ہے۔ تاہم اگر ٹرمپ انتظامیہ نے 2017 کیلئے 255 ملین ڈالر کا کولیشن سپورٹ فنڈ روک لیا تھا، موجودہ سال کیلئے مختص 100 ملین ڈالر کی رقم بھی جاری ہونے کا امکان کم ہے۔ یوں 2018 کیلئے کل امریکی امداد 245 ملین رہ جائے گی۔

ماضی میں مختلف مرحلوں پر امریکی مالی تعاون کی تفصیل یہ ہے:

  • 1965 : بھارت کے ساتھ جنگ کے بعد امریکہ نے پاکستان کی امداد مکمل طور پر بند کر دی۔
  • اگلے برس تک پاکستان کیلئے امریکی امداد برائے نام ہی رہی۔
  • 1979 میں سی آئی اے کی طرف اس انکشاف کے بعد اُس وقت کے صدر جمی کارٹر نے خوراک کی معمولی امداد کے علاوہ تمام تر امداد بند کر دی کہ پاکستان جوہری افزودگی کا پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔
  • 1980 میں افغانستان پر سوویت یونین کے قبضے کے بعد پاکستان کی طرف سے تعاون کیلئے امداد میں خطیر اضافہ کر دیا گیا۔
  • 1990 کی دہائی کے آغاز میں اُس وقت کے صدر جارج بش نے اس بات کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا کہ پاکستان جوہری بم نہیں بنا رہا۔ اس کے نتیجے میں پریسلر ترامیم کے ذریعے پاکستان کی امداد بہت کم کر دی گئی۔
  • 1993 میں یو ایس ایڈ کا پاکستان میں دفتر بھی بند کر دیا گیا جو 8 سال تک بند رہا۔
  • 1998 میں پاکستان کی طرف سے جوہری تجربات کرنے کے جواب میں امریکی امداد تقریباً بند ہی کر دی گئی۔
  • 11 ستمبر، 2011 کے دہشت گرد حملے کے بعد ایک مرتبہ پھر پاکستان کی امداد میں خطیر اضافہ کیا گیا۔
  • 2004 میں امریکہ نے پاکستان کے ذمہ امریکی قرضے کی ادائیگی میں مدد کیلئے پاکستان کو ایک بلین ڈالر کی امداد فراہم کی۔
  • 2009 میں امریکی کانگریس نے کیری لوگر بل پاس کیا جسے پاکستان کے ساتھ شراکت کا ایکٹ 2009 بھی کہا جاتا ہے۔ اس بل کے تحت امریکی کانگریس نے 2010 سے 2014 کیلئے امریکی امداد بڑھا کر ساڑھے سات بلین ڈالر کر دی۔
  • 2002 سے 2009 کے درمیان پاکستان کو موصول ہونے والی امریکی رقوم کا صرف 30 فیصد اقتصادی شعبے کیلئے تھا جبکہ باقی 70 فیصد رقم سیکورٹی میں تعاون کی مد میں فراہم کی گئی۔
  • 2011 میں پاکستان سب سے زیادہ امریکی امداد حاصل کرنے والا چوتھا ملک بن گیا۔ اس سال امریکہ کی بیرونی امداد کا 3.4 فیصد پاکستان کے لئے مخصوص کیا گیا۔ سب سے زیادہ امریکی امداد 26.1 فیصد افغانستان کو دی گئی۔
  • اس سال امریکہ کے علاوہ متعدد عالمی مالیاتی اداروں نے بھی پاکستانی امداد میں اضافہ کر دیا۔
  • 2016 میں پاکستان کیلئے امریکی مالی معاونت کم ہو کر 537 ملین ڈالر کر دی گئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG