رسائی کے لنکس

logo-print

مصرکی فوج مظاہرین پر تشدد میں ملوث ہے: ہیومن رائٹس واچ


دو مئی کو وزارت دفاع کی عمارت کے باہر سڑک پر تین روز تک جاری رہنے والی جھڑپوں اور اس کے بعد دو روزہ لڑائیوں میں کم ازکم 11 افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم نے مصر کی فوج پرالزام لگایا ہے کہ اس نے مئی کے شروع میں قاہرہ میں وزارت دفاع کے قریب مظاہرے کے دوران گرفتار کیے جانے والے افراد کو ماراپیٹا اور تشدد کانشانہ بنایا ہے۔

نیویارک میں قائم ادارے ہیومن رائٹس واچ نے ہفتے کے روز کہا کہ سپائیوں نے ہزاروں افراد کے مظاہرے کو منتشر کرنے کے لیے، جو فوری طورپر فوجی اقتدار کے خاتمے کا مطالبہ کررہے تھے، ان کے خلاف پانی کی بوچھار استعمال کی اور آنسو گیس کے گولے پھینکے۔

اس دوران انہوں نے 350 کے لگ بھگ افراد کو حراست میں لے لیا۔

ہیومن رائٹس واچ کے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے ڈائریکٹر جو سٹارک نے کہاہے کہ مظاہرہ کرنے والی خواتین اور مردوں کی بے رحمی سے مارپیٹ یہ ظاہر کرتی ہے کہ فوجی عہدے داروں کو اپنی حدود کا احساس نہیں ہے۔

دو مئی کو وزارت دفاع کی عمارت کے باہر سڑک پر تین روز تک جاری رہنے والی جھڑپوں اور اس کے بعد دو روزہ لڑائیوں میں کم ازکم 11 افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

مصر میں صدارتی انتخابات 23 اور 24 مئی کو ہورہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG