رسائی کے لنکس

logo-print

مصر: تحریر چوک پر جمع ہزاروں مظاہرین پر آنسو گیس کا استعمال


یہ مظاہرہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب تقریباً دو ہزار افراد مصر کی اس پچاس رکنی کمیٹی کے خلاف احتجاج کے لیے اکٹھے ہوئے جو مصر کے نئے آئین کے مسودے کی ووٹنگ میں مصروف تھی۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے تحریر چوک میں اتوار کے روز حکومت کی مخالفت اور جولائی میں فوج کی جانب سے بے دخل کیے جانے والے صدر محمد مرسی کے حق میں مظاہرین ایک بڑی تعداد میں جمع ہوئے۔

ان مظاہرین پر مصری حکام کی جانب سے آنسو گیس پھینک کر انہیں منتشر کیا گیا۔

یہ مظاہرہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب تقریباً دو ہزار افراد مصر کی اس پچاس رکنی کمیٹی کے خلاف احتجاج کے لیے اکٹھے ہوئے جو مصر کے نئے آئین کے مسودے کی ووٹنگ میں مصروف تھی۔ مصر کا یہ نیا آئین صدر مرسی کی جانب سے نافذ کیے گئے آئین کی جگہ نافذ کیا جائے گا۔

مصر کی عبوری حکومت کی جانب سے جسے فوج کی حمایت حاصل ہے، مصر میں جمہوریت بحال کرنے کے لیے آئین کو پہلے قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

کمیٹی مجوزہ آئین کا مسودہ مصر کے عبوری صدر ادلی منصور کو رواں ہفتے میں ہی پیش کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

اتوار کے روز ہی نیویارک میں انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائیٹس واچ نے مصر کی حکومت کو جسے فوجی حمایت حاصل ہے، معزول کیے گئے صدر مرسی کے پانچ ساتھیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ معزول کیے گئے صدر کے یہ پانچ ساتھی رواں برس 3 جولائی سے نامعلوم مقام میں رکھے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ رواں برس 3 جولائی کو ہی محمد مرسی کو معزول کیا گیا تھا۔
XS
SM
MD
LG