رسائی کے لنکس

مصر: عدالت میں بھگڈر، سابق وزیر داخلہ کے مقدمے کی سماعت ملتوی


مصر: عدالت میں بھگڈر، سابق وزیر داخلہ کے مقدمے کی سماعت ملتوی

مصر کی ایک عدالت کے اندر ہفتے کے روزسابق وزیر داخلہ کے مقدمے کی سماعت کے وقت ہاتھا پائی شروع ہوگئی۔ لڑائی کے باعث جج کومقدمے کی سماعت ملتوی کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ حسنی مبارک کی کابینہ کے سابق وزیر پر جمہوریت نواز مظاہرین کی ہلاکتوں کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہاہے۔

عینی شاہدین کا کہناہے کہ لڑائی حبیب ابراہیم العادلی کے مقدمے کی سماعت کے دوان اس وقت شروع ہوئی جب پولیس نے سرگرم کارکنوں اورمتاثرہ خاندانوں کے افراد کو کمرہ عدالت میں جانے سے روکنے کی کوشش کی۔ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہناہے کہ اس موقع پر متاثرہ خاندانوں کے افراد نے العادلی کے خلاف نعرے بھی لگائے۔

صورت حال کی نزاکت کے پیش نظر قاہرہ میں واقع عدالت کے جج نے العادلی اور اس کے چار مشیروں کے خلاف مقدمے کی سماعت 26 جون تک ملتوی کردی۔

العادلی سابق صدر حسنی مبارک کی کابینہ میں وزیر داخلہ کے طور پر کام کرچکے ہیں۔ وہ سابق دور کے ایک ایسے سب سے سینیئر اعلیٰ عہدے دار ہیں جن کے خلاف جمہوریت نواز کارکنوں کی ہلاکتوں میں ملوث ہونے کا مقدمہ شروع کیا گیا ہے۔

حسنی مبارک کے کئی مخالفین کا خیال ہے کہ العادلی نے پولیس کو مظاہرین پر اصلی گولیاں چلانے کا براہ راست حکم دیا تھا۔

اپریل میں حقائق کا پتا چلانے کے لیے قائم کی جانے والی سرکاری کمیٹی کے مطابق مسٹر مبارک کے خلاف شروع ہونے والی عوامی تحریک کے دوران ، جس کا اختتام فروری میں مبارک کے استعفی پر ہواتھا، 850 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ گروپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہنگاموں میں 26 پولیس اہل کاروں نے بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھوئے۔

ایک مصری عدالت پہلے ہی العادلی کو کرپشن کے الزام میں بارہ سال قید کی سزا سنا چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG