رسائی کے لنکس

logo-print

مصر: الجزیرہ کے صحافیوں کے مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم


وکیل صفائی نجد ال بورائی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اس مقدمے کے خوش آئند اختتام کی امید کا اظہار کیا۔

مصر میں ایک عدالت نے جیل میں قید الجزیرہ چینل کے تین صحافیوں کی سزا کو معطل کرتے ہوئے ان کے مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا ہے۔

اعلیٰ عدالت کی کارروائی جمعرات کو صرف چند منٹ تک ہی جاری رہی۔ تاہم مصری نژاد کینیڈین شہری محمد فہمی، آسٹریلوی شہری پیٹر گریسٹے اور مصری صحافی باہیر محمد کی ضمانت منظور نہیں کی گئی جو دسمبر 2013 سے جیل میں بند ہیں۔

قاہرہ میں مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے شروع ہونے والی عدالتی کارروائی کے دوران تینوں صحافی موجود نہیں تھے۔ اس موقع پر جب دلائل دیے جا رہے تھے تو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو اس وقت عدالت میں جانے کی اجازت نہیں تھی تاہم بعد میں وہ کمرہ عدالت میں داخل ہوئے۔

وکیل صفائی نجد ال بورائی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اس مقدمے کے خوش آئند اختتام کی امید کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ "عدالت کے پاس یہ اختیار ہے کہ آج انہیں رہا کر دے"۔

فہمی اور گریسٹے کو سات، سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ باہیر محمد کو دس سال کی سزا سنائی گئی جس میں تین سال کی وہ سزا بھی شامل ہے جو ان کے پاس سے ایک چلی ہوئی گولی کا خول برآمد ہونے پر دی گئی۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں اس مقدمےکو یہ کہہ کر مسترد کر چکی ہیں کہ یہ جعلی مقدمہ ہے اور امریکہ سمیت کئی دوسرے ممالک نے صحافیوں کی حراست پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

مصری حکام نے قطر میں قائم الجزیرہ ٹی وی چینل پر کالعدم اخوان المسلمین کی حمایت کا الزام عائد کیا تھا۔ الجزیرہ ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور اس کا موقف ہے کہ صحافی اپنا پیشہ وارانہ کام کر رہے تھے۔

XS
SM
MD
LG