رسائی کے لنکس

logo-print

مظاہروں سے مصری معیشت کو بھاری نقصان


مظاہروں سے مصری معیشت کو بھاری نقصان

مصر کی معیشت کے مختلف حصوں پر اس ہفتے کے مظاہروں اور ہڑتالوں کے اثرات کا فی الحال علم نہیں ہے ، لیکن وزیر خرانہ کا کہناہے کہ نقصانات بہت زیادہ ہوسکتے ہیں۔

مصری وزیر خزانہ سمیر رضوان نے رائیٹر ٹیلی ویژن کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ صدر حسنی مبارک کے استعفے کے لیے دس روز سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کے معیشت پر اثرات بہت نمایاں ہوسکتے ہیں۔ لیکن ان کا کہناتھا کہ نقصان کا اندازہ روپے پیسے میں لگانا ابھی بہت قبل از وقت ہے۔

اس سے پہلے انہوں نے کہاتھا کہ مصر کی اسٹاک مارکیٹ 2008ء کے عالمی مالیاتی بحران کا کامیابی سے مقابلہ کرنے میں کامیاب رہی تھی۔مگر اب جنوری کے آغاز کے مقابلے میں اسٹاک مارکیٹ 21 فی صد تک گر چکی ہے اور پچھلے ہفتے مارکیٹ کھلنے کے بعد سے صرف دو دنوں میں مارکیٹ میں 16 فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

خلیج فارس کی کچھ مارکیٹیں پانچ فی صد گرگئیں ہیں اور حصص میں ہونے والے نقصان کا اندازہ مجموعی طورپر 50 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

رضوان کا کہناہے کہ حکومت نے سیاسی مظاہروں کے دوران لوگوں کی املاک کے نقصان کے ازالے کے لیے 85 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا ایک فنڈ قائم کردیاہے۔

حکام کا کہناہے کہ کچھ مصری بینک اتوار کے روز محدود وقت کے لیے کھلیں گے۔ مصر میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کی وجہ بینک کئی دنوں سے بند پڑے ہیں۔

کچھ تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ بینکوں کے کھلنے سے ان پر دباؤ پڑسکتا ہے کیونکہ کھاتے دار اپنا سرمایہ نکلوانا چاہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG