رسائی کے لنکس

logo-print

مصر: صدارتی نتائج کے اعلان میں تاخیر سے تشویش میں اضافہ


مصر کے انتخابی عہدے دار ملک کے پہلے آزادانہ صدارتی انتخابات کے نتائج کے اعلان میں بے قاعدگیوں سے متعلق شکایات کی تحقیقات کی بناپر تاخیر کررہے ہیں۔ جس سے ملک میں، جہاں کئی صدارتی اختیارت فوج کے ہاتھوں میں چلے جانے سے کشیدگی پائی جاتی ہے، مزید اشتعال بڑھ رہاہے۔

اخوان المسلمین کے صدارتی امیدوار محمد مورسی کے حامی ملک میں جاری سیاسی بحران کے فوری حل پر دباؤ ڈالنے کے لیے جمعرات کو قاہرہ کے معروف تحریر چوک میں ایک عوامی مظاہرے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

انتخابی عہدے داروں نے صدارتی نتائج کا اعلان جو پروگرام کے مطابق جمعرات کو کیا جاناتھا، ملتوی کردیا ہے اور ان کا کہناہے کہ وہ مورسی اور ان کے حریف سابق وزیر اعظم احمد شفیق کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف انتخابی بے قاعدگیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

دونوں فریق اپنی اپنی کامیابیوں کے دعوے کررہے ہیں اور مورسی کے حامیوں کو خدشہ ہے کہ اعلان میں تاخیر غیر سرکاری نتائج میں ردوبدل کی کوشش ہوسکتی ہے۔

مختلف مبصرین کی جانب سے ملک بھر کے پولنگ اسٹیشنوں کے ابتدائی جائزوں کے مطابق مورسی اکثریت حاصل کرتے ہوئے دکھائی دیے تھے۔ لیکن ان نتائج میں غلطی کے امکانات موجود ہیں۔

دونوں فریقوں کے حامی یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر ان کے امیدوار کی شکست کا اعلان کیا گیاتو اس کا ردعمل آئے گا۔

لیکن بدھ کو دیرگئے صدارتی امیدوار شفیق کی انتخابی مہم کے ایک ترجمان باصل عبیز نے کشیدگی کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہوئے قاہرہ میں نامہ نگاروں سے کہا کہ ان کا امیدوارنتائج قبول کرلیں گے۔

ان کا کہناہے کہ اگر حقیقتاً مورسی انتخاب میں کامیاب اور فاتح ثابت ہوجاتے ہیں تو انہیں مبارک باد کا سب سے پہلا ٹیلی فون احمد شفیق کی جانب سے موصول ہوگا۔ انہیں صرف ٹیلی فون کال ہی نہیں جائے گی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک کو بہتر سمت آگے لے جانے کے لیے شفیق اپنی تمام خدمات بھی ان کے سپرد کردیں گے کیونک ہمیں متحد ہوکر کام کرنا ہے۔

انتخابی نتائج ملک میں جاری سیاسی تعطل کا صرف ایک حصہ ہیں۔ گذشتہ ہفتوں کے دوران برسراقتدار فوجی کونسل نے مارشل لاء جیسے کچھ قوانین نافذ کیے ہیں ، عدالتی حکم پر پارلیمنٹ کو تحلیل کیا ہے ، قانون سازی اپنے ہاتھ میں لے لی ہے اور کئی صدارتی اختیارات بھی اپنے پاس رکھ لیے ہیں۔ یہ اقدامات فوجی کونسل کے اس اعلان سے محض چند ہفتوں کے بعد کیے گئے ہیں جس میں اس نے اختیارات سویلین لیڈرشپ کو سونپنے کا وعدہ کیاتھا۔

سابق سفارت کار عبداللہ العشال ، جو صدرارتی انتخاب کے پہلے مرحلے کے امیدوار تھے اور جنہوں نے اپنی حمایت مورسی کے پلڑے میں ڈال دی تھی، کہتے ہیں کہ چاہے جیت کسی کی بھی ہو، اسے فوج کے ساتھ گفت وشنید میں بڑی سمجھداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ نئے صدر کے سامنے اصلاحات نفاذ کرنے اور ملک میں حالات معمول پر لانے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کے سامنے سب سے اہم مسئلہ فوجی کونسل سے اختیارات واپس لینے کا ہے۔ چاہے وہ کاغذ پر اپنے اختیارات سے دست بردار ہوبھی جائیں تو بھی سیکیورٹی اور کرپشن کے معاملات پہلے کی طرح بدستور ان کے پاس رہیں گے۔ جس کی وجہ سے ملک کے سربراہ اور فوجی کونسل باہمی اختلافات سے خود کو بچا نہیں پائیں گی۔

ملک میں جاری غیر یقینی کی فضا میں شامل ہونے والا ایک اورعنصر سابق صدر حسنی مبارک کی صحت ہے۔ سابق صدر کو اس ماہ کے شروع میں گذشتہ سال تحریر چوک میں ہونے والی ہلاکتوں کے الزامات پر قید کی سزاسنائی گئی تھی۔ انہیں منگل کے روز ایک فوجی اسپتال منتقل کردیا گیاتھا۔ ان کی صحت سے متعلق کئی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں اور یہ کہاجارہاہے کہ یہ اقدام طبی لحاظ سے ضروری نہیں تھا بلکہ ایسا انہیں جیل سے نکالنے کے لیے کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG