رسائی کے لنکس

مصر نے لیبیا میں "دہشت گرد پناہ گاہوں" پر فضائی حملے کیے ہیں جن کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ یہاں ان دہشت گردوں نے تربیت حاصل کی تھی جنہوں نے جمعہ کو قاہرہ میں حملہ کر کے 28 قبطی مسیحیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

صدر عبدالفتاح السیسی نے ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے اس کارروائی کا اعلان کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ انتہائی تکلیف دہ حملے سے ردعمل میں ان اڈوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔

"مصر کبھی بھی کہیں بھی دہشت گردوں کے اڈوں پر حملہ کرنے سے نہیں ہچکچائے گا۔"

فوجی حکام کا کہنا تھا کہ لیبیا میں نشانہ بنائے گئے کیمپس بس حملے سے تعلق رکھتے تھے اور یہ شدت پسند تنظیم داعش سے ہمدردی رکھتے تھے۔

منیا میں پیش آنے والے واقعے کے خلاف قبطی مسیحی سراپا احتجاج ہیں
منیا میں پیش آنے والے واقعے کے خلاف قبطی مسیحی سراپا احتجاج ہیں

حکام کے مطابق تین پک اپ ٹرکس پر سوار عسکریت پسندوں نے قاہرہ سے 320 کلومیٹر دور منیا کے علاقے قبطی مسیحی زائرین کو لے جانے والی بسوں پر اندھا دھند فائرنگ کی جس سے 28 افراد ہلاک اور 25 زخمی ہو گئے تھے۔

تاحال اس حملے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی لیکن مصر میں ایسے ہی واقعات میں شدت پسند تنظیم داعش ملوث رہی ہے جو کہ دسمبر سے قبطی مسیحیوں پر چار مہلک حملے کر چکی ہے۔

سب سے مہلک حملہ دس اپریل کو قبطی کیلینڈر کے مطابق 'پام سنڈے' کی تقریبات میں کیا گیا جس میں ہونے والے بم دھماکوں سے 44 افراد ہلاک اور ایک سو سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG