رسائی کے لنکس

اِس ماہ اُن کی حتمی سماعت کے دوران، اُنھیں قتل کے الزامات سے بری کردیا گیا تھا۔ مبارک کے وکیل فرید الدیب نے کہا ہے کہ ’’وہ ’ہیلیو بولیس‘ میں واقع اپنے گھر جائیں گے‘‘۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ عمر رسیدہ سابق صدر کو منگل کے روز یا اُس سے پہلے رہائی مل سکتی ہے

حسنی مبارک، جنھیں 2011ء میں شورش کے نتیجے میں مصر کے صدر کے عہدے سے معذول کر دیا گیا تھا، اُنھیں فوجی اسپتال سے رہا کیا جائے گا، جہاں وہ زیرِ حراست ہیں۔ اُن کے وکلا اور عدالتی ذرائع کے مطابق، ’’اِس بات کا فیصلہ سرکاری استغاثہ نے پیرکے روز سنایا‘‘۔

مبارک کے وکیل فرید الدیب نے کہا ہے کہ ’’وہ ’ہیلیو بولیس‘ میں واقع اپنے گھر جائیں گے‘‘۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ عمر رسیدہ سابق صدر کو منگل کے روز یا اُس سے پہلے رہائی مل سکتی ہے۔

اِس ماہ اُن کی حتمی سماعت کے دوران، اُنھیں قتل کے الزامات سے بری کردیا گیا تھا۔ اُنھیں بدعنوانی سے لے کر مظاہرین کو ہلاک کرنے کے احکامات جاری کرنے تک کے متعدد الزامات کا سامنا تھا۔ بغاوت کے نتیجے میں اُنھیں عہدہٴ صدارت سے ہٹایا گیا، جس کے بعد اُن کی حکمرانی کا 30 برس کا عہد ختم ہوا۔

اُنھیں ابھی مزید قید کی سزا کاٹنی تھی۔ لیکن، قتل کے الزمات پر سزا بھگتنے کے بعد اُن کی باقی سزا معاف کردی گئی۔ یہ بات عدالتی ذرائع اور سرکاری تحویل میں کام کرنے والے خبر رساں ادارے نے بتائی ہے۔

استغاثے نے اُس عرصے کو بھی شمار کیا جو قتل کے مقدمے کے دوران اُنھوں نے جیل میں گزارا، جنھیں ایک اور معاملے پر جیل کاٹنی تھی جس میں اُنھیں قصوروار ٹھہرایا گیا تھا، جس میں صدارتی محل کی نگہداشت کے لیے مختص رقوم کو خرد برد کرنا شامل ہے۔

مبارک کو سنہ 2012 میں عمر قید ہوئی تھی۔ اُن پر 18 روز تک جاری رہنے والی بغاوت کے دوران 239 مظاہرین کو قتل کرنے کی منصوبہ سازی کا الزام ثابت ہوا تھا؛ جس کشیدگی کے نتیجے میں افراتفری پھیلی اور سکیورٹی کا خلا پیدا ہوا، جب کہ صورت حال کے نتیجے میں جمہوریت اور سماجی انصاف کی توقعات نے بھی جنم لیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG