رسائی کے لنکس

logo-print

مصر میں غیر ملکی کارکنوں کو سنائی گئی سزا پر تنقید


ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ آزادی کے اُن بنیادی حقوق کے منافی ہے جو کسی کو ’’وابستگی‘‘ سے نہیں روکتا۔

انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم نے مصر کی عدالت کی طرف سے غیر ملکی ’این جو اوز‘ کے 43 کارکنان کو سزائیں سنائے جانے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’غیر منصفانہ‘ قرار دیا ہے۔

منگل کو عدالت نے ان کارکنان کو رقوم کے غیر قانونی استعمال کے ذریعے ملک میں بد امنی پھیلانے کے الزام میں پانچ سال تک کی سزائیں سنائی تھیں۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ آزادی کے اُن بنیادی حقوق کے منافی ہے جو کسی کو ’’وابستگی‘‘ سے نہیں روکتا۔

تنظیم نے مصری صدر محمد مرسی کی طرف سے گشتہ ہفتے غیر سرکاری تنظیموں کے لیے وضع کردہ ایک قانونی مسودے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ہیومن رائٹس کے مطابق اس اقدام سے مصر انسانی حقوق کی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری نہیں کرسکے گا لہذا مسٹر مرسی کو اس میں ترمیم کرنی چاہیے۔

انسانی حقوق کی بعض دیگر تنظیمیں اور مغربی ممالک بھی اس مسودہ قانون پر تحفظات کا اظہار کرچکی ہیں۔

ایک روز قبل اپنے فیصلے میں مصری عدالت نے سزا سنائے جانے والے کارکنوں کی غیر سرکاری تنظیموں کے ملک میں دفاتر کو بھی بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ ان میں امریکہ میں قائم فریڈم ہاؤس، دی نیشنل ڈیموکریٹک انسٹیٹیوٹ اور دی انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹیٹیوٹ بھی شامل ہیں۔

ان کارکنان میں سے اکثر کو گزشتہ سال ملک چھوڑنے کی اجازت دی گئی تھی اور منگل کو عدالتی فیصلے میں ان کی غیر موجودگی میں یہ سزائیں سنائی گئیں۔ ان میں کم ازکم 15 امریکی شہری بھی شامل ہیں۔
XS
SM
MD
LG