رسائی کے لنکس

logo-print

مصر: فحاشی پھیلانے کے الزام میں مصنف کو دو سال قید کی سزا


حمد ناجی کا ناول’اسخدام الحیات‘ کا ایک باب سرکاری ادبی اخبار میں سلسلہ وار شائع ہوا تھا جس کے بعد ایک عام شہری نے ان کے خلاف اس بنیاد پر مقدمہ کر دیا تھا کہ ناول کے اقتباسات پڑھنے سے اس کو تکلیف پہنچی۔

مصر کی ایک عدالت نے جنسی تفصیلات پر مبنی ایک ناول کے کچھ حصے ایک ادبی اخبار میں شائع ہونے کے بعد اس کے مصنف کو معاشرے میں فحاشی پھیلانے کے الزام میں دو سال قید کی سزا سنائی ہے۔

احمد ناجی کا ناول ’اسخدام الحیات‘ کا ایک باب سرکاری ادبی اخبار میں سلسلہ وار شائع ہوا تھا جس کے بعد ایک عام شہری نے ان کے خلاف اس بنیاد پر مقدمہ کر دیا تھا کہ ناول کے اقتباسات پڑھنے سے اس کو تکلیف پہنچی۔

احمد ناجی کو ابتدائی طور پر جنوری میں الزام سے بری کر دیا گیا تھا مگر استغاثہ نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جس کے بعد ان پر دوبارہ مقدمہ چلا کر ہفتے کو انہیں دو سال کے لیے قید کی سزا سنائی گئی۔ تاہم اس فیصلے کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے۔

ابتدائی فیصلے میں عدالت نے کہا تھا کہ اس نے احمد ناجی کو اس لیے بری کیا کیونکہ اظہار رائے کی آزادی کی ضمانت آئین میں شامل ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اخلاقیات ایک انفرادی معاملہ ہے۔

جس عدالت نے اس فیصلے کو معطل کرتے ہوئے سزا سنائی ہے اس نے ابھی سزا کی کوئی وجوہات بیان نہیں کیں۔

ادبی اخبار کے ایڈیٹر کو دس ہزار مصری پاؤنڈ ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے جن کی مالیت لگ بھگ تیرہ سو ڈالر بنتی ہے۔

مصر کے ادیبوں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ سزا آزادی اظہار رائے کے منافی ہے۔

کئی معروف ادیبوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے احمد ناجی سے یکجہتی کے اظہار میں بیانات جاری کیے۔ ان میں سے کچھ نے عدالت میں ان کی حق میں گواہی بھی دی۔

XS
SM
MD
LG