رسائی کے لنکس

logo-print

مصر نے غزہ میں جنگ بندی کا منصوبہ پیش کردیا


مصر کی جانب سے پیش کیے جانے والے منصوبے کا اطلاق منگل کی صبح سے ہوگا جس کے 12 گھنٹوں کے اندر علاقے میں جنگ بندی موثر ہوجائے گی۔

مصر کی حکومت کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی تجویز پر غور کے لیے اسرائیل کے وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے اپنی کابینہ کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔

اسرائیلی حکومت کے ایک عہدیدار نے صحافیوں کوبتایا ہے کہ غزہ پر ایک ہفتے سے جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ پر حکمران فلسطینی مزاحمتی تنظیم 'حماس' کو قابلِ ذکر نقصان پہنچا ہے جس کے بعد اب اسرائیلی حکومت جنگ بندی پہ غور کرنے پر آمادہ ہے۔

اسرائیلی اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ مصر کی جانب سے پیش کیے جانے والے منصوبے پر غور کے لیے وزیرِاعظم نیتن یاہو نے اپنی منگل کو سکیورٹی کابینہ کا اجلاس طلب کرلیا ہے جو اسرائیل کے دفاعی اور فوجی معاملات پر فیصلہ سازی کا اختیار رکھتی ہے۔

مصری حکومت کی جانب سے تجویز کیا جانے والا منصوبہ غزہ پر جاری اسرائیلی بمباری اور 'حماس' کے اسرائیلی علاقوں پر جوابی راکٹ حملے روکنے کی بین الاقوامی برادری کی جانب سے پہلی قابلِ ذکر کوشش ہے۔

'حماس' کے ایک اعلیٰ رہنما پہلے ہی مصری منصوبے پر غور کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

مصر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'مینا' کے مطابق منصوبے کا مقصد اسرائیل اور غزہ کے فلسطینی علاقے میں موجود جنگجووں کے درمیان لڑائی کو فوری روکنا ہے۔

مصر کی جانب سے پیش کیے جانے والے منصوبے کا اطلاق منگل کی صبح سے ہوگا جس کے 12 گھنٹوں کے اندر علاقے میں جنگ بندی موثر ہوجائے گی۔

منصوبے کے مطابق جنگ بندی کے موثر ہونے کے 48 گھنٹوں کے اندر اسرائیل اور 'حماس' کے نمائندے قاہرہ میں جنگ بندی کی شرائط کے تعین کے لیے مذاکرات کا آغاز کردیں گے۔

مصر کی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ مصری حکومت کی خواہش ہے کہ تمام عرب ممالک بھی اس منصوبے کی حمایت کریں۔

ترجمان نے امید ظاہر کی کہ فریقین منصوبے پر اتفاق کرلیں گے جس کے بعد منگل سے غزہ میں جنگ بندی موثر ہوجائے گی۔

عرب ممالک کی نمائندہ تنظیم 'عرب لیگ' نے عالمی برادری سے غزہ پر اسرائیلی بمباری روکنے کے لیے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے صورتِ حال پر غور کے لیے اپنا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔

تنظیم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ "غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت پر مزید خاموش نہیں رہا جاسکتا"۔ 'عرب لیگ' نے بین الاقوامی تنظیموں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ فلسطینیوں کو بچانے کے لیے آگے آئیں۔

غزہ میں جنگ بندی کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل، عالمی ادارے کے سیکریٹری جنرل اور کئی عالمی رہنما مسلسل اپیلیں کرتے رہے ہیں لیکن ان کا اب تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا ہے۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ پر گزشتہ سات روز سے جاری اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں اب تک 175 سے زائد افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔ مرنے والوں میں درجنوں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

'حماس' کے جوابی راکٹ حملوں سے اسرائیل میں کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا ہے لیکن ان حملوں کے باعث اسرائیلی شہروں میں معمولاتِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG