رسائی کے لنکس

logo-print

مصر: اسلامی جماعتوں کی عبوری کابینہ میں شمولیت کا عندیہ


عبوری وزیر اعظم حاظم البیلاوی اخوان المسلیمین اور اسلامی النور پارٹی کو بھی کابینہ میں شامل ہونے کی پیشکش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مصر کے عبوری وزیر اعظم حاظم البیلاوی نے بدھ سے اپنی کابینہ تشکیل دینے کے لیے کام شروع کیا اور ملک کے سرکاری میڈیا کے مطابق وہ اخوان المسلمین اور اسلامی النور پارٹی کو بھی کابینہ میں شامل ہونے کی پیشکش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

عبوری حکمران ملک میں انتقال اقتدار کے سلسلے میں آئین میں ترامیم اور اس کے بعد نئے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کے لیے تیزی سے کام کر رہے ہیں۔

فوج کی طرف سے صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد ملک کے عبوری صدر عدلی منصور نے انتقال اقتدار کا جو لائحہ عمل پیش کیا تھا، اخوان المسلمین اور النور پارٹی اُس پر تنقید کر رہی ہیں۔

جب کہ ملک کے اہم اعتدال پسند گروپ ’نیشنل سیلویشن فرنٹ‘ اس منصوبے کو پہلے ہی رد کر چکا ہے اور ’تیمرود یوتھ موومنٹ‘ نے کہا ہے کہ وہ انتقال اقتدار کے اس مجوزہ منصوبے کے لائحہ عمل میں تبدیلیاں تجویز کرے گا۔

اخوان المسلمین کا مطالبہ ہے کہ محمد مرسی کو بحال کیا جائے۔

امریکہ کے وزارت خارجہ کی ترجمان جین پاکسی نے منگل کو کہا تھا کہ امریکہ اخوان المسلمین سے رابطے میں ہے اور انتقال اقتدار کے عمل میں اس کی شمولیت کی حوصلہ افزائی بھی کرے گا۔

ترجمان پاکسی نے کہا کہ مصر میں کسی بھی ایسے عمل میں سب کو شامل ہونا چاہیئے۔

عبوری وزیر اعظم حاظم البیلاوی ماہر معاشیات ہیں اور وہ ملک کے سابق وزیر خزانہ بھی ہیں۔

عبوری صدر عدلی منصور نے منگل کو حاظم البیلاوی کو ملک کا عبوری وزیراعظم نامزد کیا تھا جب کہ اصلاح پسند رہنما اور نوبل امن انعام یافتہ محمد البرادعی کو نائب عبوری صدر بنایا گیا۔

متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے منگل کو مصر کو اربوں ڈالر امداد دینے کا اعلان کیا تھا۔
XS
SM
MD
LG