رسائی کے لنکس

logo-print

مصرمیں اعلی فوجی قیادت کی برطرفی پر ملاجلا ردعمل


مصر کے صدر محمد مرسی

برطانیہ کی ایکسٹر یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر اورتجزیہ کار عمر عاشور کا خیال ہے کہ مسٹر مرسی کا یہ ایک مثبت اقدام ہے اور اس سے سویلین اور فوجی تعلقات میں توازن پیدا ہوگا۔

صدر مرسی نے اچانک جس طرح وزیر دفاع کو برخواست کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس پر پیر کے روز مصر کے عوام نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا۔

اقتدار سنبھالنے کے چھ ہفتوں کے بعد مسٹر مرسی نے وزیر داخلہ اور چیف آف سٹاف اور کئی اعلیٰ فوجی افسران کی ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔ ان کے اس فیصلے سے اندازہ لگایا جارہاہے کہ وہ فوجی قوت کا زور توڑنے اور سویلین حکومت کو مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

مصر کی فوج 1952ء میں شاہ فاروق کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے ملک پر حاوی رہی ہے۔ بہرحال اب تک صدر مرسی کے اس تازہ اقدام پر فوج نےاپنا کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیاہے۔
برطانیہ کی ایکسٹر یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر او رتجزیہ کار عمر عاشور کا خیال ہے کہ مسٹر مرسی کا یہ ایک مثبت اقدام ہے اور اس سے سویلین اور فوجی تعلقات میں توازن پیدا ہوگا۔

ان کا کہناہے کہ جمہوریت کی منتقلی کا اصل فیصلہ اس بات پر منحصر ہے کہ کیا اقتدار واقعی سویلین قیادت کو منتقل ہوگیا ہے۔

دوسری طرف مصر کے ایک اور اخبار کے مدیر اور ناشر ہشام قاسم نے صدر کے اس فیصلے پر شک و شبہے کا اظہار کیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ عام طورسے تو مجھے اس پر حیرت انگیز خوشی ہونی چاہیے تھی کہ فوجی اقتدار کا خاتمہ ہوگیا ہے۔لیکن مجھے اس پر تھوڑی بہت پریشانی ہے کہ اس طرح اخوان المسلمین اپنی قوت بڑھا رہی ہے۔

عرب میڈیا چینلز پر کئی سیکولر سیاست دانوں کو بھی اندیشہ ہے کہ اخوان المسلمین صدارت پر اپنی گرفت مضبوط کررہی ہے۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت میں اسلام پسندوں کی موجودگی کوپیش نظر رکھتے ہوئے فوج چیک اینڈ بیلنس کا کردار ادا کرے گی۔
XS
SM
MD
LG