رسائی کے لنکس

logo-print

مصر احتجاجی دھرنوں پر کارروائی، امریکہ کی سخت مذمت


وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش اِرنیسٹ نے کہا ہے کہ امریکہ نے مصر کی سکیورٹی فورسز سے بارہا یہ مطالبہ کیا کہ وہ تحمل سے کام لیں۔ ترجمان نے مظاہرین سے بھی پُرامن رہنے کا مطالبہ کیا

مصر کے برطرف اسلام پرست صدر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف تشدد کرنے پر وائٹ ہاؤس نے مصر کی عبوری حکومت کی سختی سے مذمت کی ہے۔

بدھ کے روز میساچیوسٹس میں نامہ نگاروں کو بریفنگ دیتے ہوئے، جہاں صدر براک اوباما چھٹیاں منا رہے ہیں، وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش اِرنیسٹ نے کہا کہ امریکہ نے مصر کی سکیورٹی فورسز سے بارہا یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ تحمل سے کام لیں۔

مصر کےحکام کاکہنا ہے کہ ملک میں حالات معمول پر آگئے ہیں، جب کہ رات بھر کرفیو نافذ رہا، جس سے قبل قاہرہ میں دو بڑے احتجاجی کیمپوں کو ہٹانے کے لیے بلوؤں سے نمٹنے پر مامور پولیس نے بکتربند گاڑیاں اور بلڈوزر کا استعمال کیا۔

عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ 278 افراد، جن میں 43پولیس والے شامل ہیں، ہلاک ہوئے۔

وائٹ ہاؤس ترجمان نے مرسی کے حامیوں سے بھی اس مطالبے کا اعادہ کیا کہ وہ احتجاج کو پُر امن رکھیں۔

مصر کی فوج کی حمایت سے کام کرنے والی عبوری حکومت نے آج ہی کے روز قاہرہ میں مرسی کے حامیوں کے احتجاجی کیمپوں پر سخت کریک ڈاؤن کیا، جس بات کی مسلمان ملکوں کے سربراہان نے مذمت کی ہے جو برطرف راہنما کے حامی رہے ہیں۔

یورپی اقوام نے بھی مصر کی حکومت اور اسلام پرست مخالفین پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد کی راہ اختیار نہ کریں اور سیاسی مکالمے کی طرف لوٹ آئیں۔

مصر کی وزارت صحت کے مطابق، قاہرہ اور ملک کے دیگر علاقوں میں ہونے والے بلوؤں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 149ہوگئی ہے۔ ہٹائے جانے والے صدر محمد مرسی کی اخوان المسلمین نے کہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اِن سے کہیں زیادہ ہے، جسے اُس نے ’قتل عام‘ قرار دیا ہے۔


اس سے قبل موصولہ رپورٹوں میں بتایا گیا تھا کہ مصر میں سکیورٹی فورسز نے برطرف صدر محمد مرسی کے حامی مظاہرین کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، جس میں اطلاعات کے مطابق بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی نے اپنے رپورٹروں کے حوالے سے کہا ہے کہ ایک عارضی اسپتال میں کم از کم 43 لاشیں موجود ہیں، جب کہ بیسیوں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

پولیس نے دارالحکومت قاہرہ کے علاقے ’نصر سٹی‘ میں دیے گئے دو دھرنوں میں سے ایک کو اشک آور کیس سے بھی نشانہ بنایا۔

ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے مناظر میں فوجی گاڑیوں کو احتجاجی کیمپوں کی جانب بڑھتے دکھایا جا رہا ہے، جہاں سے دھواں بھی اٹھتا دیکھائی دیا۔

حکام اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بدامنی کا آغاز منگل کو اُس وقت ہوا جب محمد مرسی کے سینکڑوں حامیوں نے متعدد وزارتوں کی عماتوں پر دھاوا بولا۔ وہ 3 جولائی کو مسٹر مرسی کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد بنائی گئی عبوری حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

بقیہ مظاہرین احتجاجی کیمپوں میں ہی موجود رہے، اگرچہ اُنھیں گزشتہ کئی روز سے متنبہ کیا جا رہا تھا کہ حکومت دھرنے ختم کروانے کے لیے جلد ہی کارروائی کر سکتی ہے۔

محمد مرسی کی برطرفی کے بعد شروع ہونے والے سیاسی ہنگاموں میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

عبوری حکومت مصر کے آئین میں ترامیم اور آئندہ برس کے اوائل میں انتخابات منعقد کروانے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

مسٹر مرسی کی جماعت ’اخوان المسلمین‘ کی قیادت میں احتجاج کرنے والے مظاہرین فوج کی جانب سے اقتدار میں لائی گئی عبوری حکومت کو ماننے سے انکاری ہیں۔
XS
SM
MD
LG