رسائی کے لنکس

logo-print

مصر میں عام ہڑتال کی اپیل


التحریر اسکوائر میں پیر کو روز احتجاج کا ایک منظر

مصر میں حکومت مخالف رہنماؤں نے منگل کو عام ہڑتال کی اپیل کی ہے جس کا مقصد صدر حسنی مبارک پر مستعفی ہونے کے حوالے سے دباؤ میں اضافہ کرنا ہے۔

حکومت نے گذشتہ ماہ کے اواخر سے جاری احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ رکوانے کی کوشش میں تقریباً 60 لاکھ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی پیش کش کی ہے۔

مظاہرین نے دارالحکومت قاہرہ کے مرکزی التحریر اسکوائر میں اپنا احتجاجی کیمپ قائم کر رکھا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ صدر حسنی مبارک کے 30 سالہ اقتدار کے خاتمے تک وہ یہاں موجود رہیں گے۔ حکومت کے مخالفین عوام کی مزید حمایت حاصل کرنے کے لیے منگل اور جمعہ کو بڑے احتجاجی مظاہرے منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کے مطابق مظاہرین احتجاج کا سلسلہ ملک کے دیگر شہروں تک بڑھانے کے علاوہ سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں جس میں وہ سرکاری ٹی وی کے دفاتر کا محاصرہ بھی کر سکتے ہیں کیوں کہ ان کے بقول سرکاری ذرائع ابلاغ نے حکومت مخالف احتجاج کا صریحاً غلط نقشہ کھینچا ہے۔

مصر کی نو منتخب کابینہ نے پیر کے روز اپنے پہلے اہم اجلاس میں تنخواہوں اور پینشن میں اضافے پر اتفاق کیا جس کا اطلاق اپریل کے مہینے سے ہوگا۔

حکام نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ ملک کی سٹاک مارکیٹ میں اتوار سے کاروبار کا دوبارہ آغاز ہو جائے گا۔ حکومت کے خلاف احتجاج کے دوران مارکیٹ کے انڈکس میں تقریباً 20 فیصد کی کمی ہو چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG