رسائی کے لنکس

سرگرم مصری کارکنوں کی ’ دوسرے انقلاب‘ کے لیے ریلی


سرگرم مصری کارکنوں کی ’ دوسرے انقلاب‘ کے لیے ریلی

سرگرم کارکنوں نے حکمراں فوجی حکومت سے جمہوری اصلاحات کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا جس میں سرکاری رشوت ستانی کا قلع قمعہ کرنا شامل ہے

صدر حسنی مبارک کےاقتدار سےہٹائےجانے کے بمشکل تین ماہ بعد، جمعے کے دِن مصر کے تحریر چوک پر ہزاروں مصریوں نے مظاہرہ کیا جسے’ دوسرے انقلاب‘ کا نام دیا گیا ہے۔

سرگرم کارکنوں نے حکمراں فوجی حکومت سے جمہوری اصلاحات کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا جس میں سرکاری رشوت ستانی کا قلع قمعہ کرنا شامل ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ فوجی قیادت نے اصلاحات کے عمل میں مسٹر مبارک کی حکمراں جماعت کے کئی ایک ارکان کو شامل کیا ہے۔
احتجاج کرنے والوں نے کتبے اٹھا رکھے تھے جِن پر تحریر تھا کہ ’مصری انقلاب ابھی ختم نہیں ہوا۔‘ عیسائی اور مسلمان شرکا نے تحریر چوک میں الگ الگ دعائیں مانگیں۔

اِسی قسم کے مظاہرے الیگزینڈریا اور سوئیز جیسے مصر کے دیگر شہروں میں بھی ہوئے۔

تاہم، مصر کی بہترین طور پر منظم سیاسی تنظیم نے مظاہروں پر تنقید کی ہے۔ اخوان المسلمین نے احتجاجی مظاہرے منظم کرنے والوں کو فوج اور عوام کے درمیان دراڑیں ڈالنے کے خطرے پرانتباہ کیا۔

حکمراں فوجی کونسل نے جمعرات کو فیس بک پیج پر شائع کیے گئے ایک پیغام میں اِسی جذبے کی ترجمانی کرتے ہوئے ایسے مشتبہ عناصر سے خبردار کیا جو دونوں فریق کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ فوج کا کہنا ہے کہ کسی قسم کی جھڑپوں سے بچنے کی خاطر وہ احتجاجی مظاہروں سے دور رہیں گے۔

XS
SM
MD
LG