رسائی کے لنکس

logo-print

مصر: انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کے قیام کی منظوری


مصر کے صدر السیسی نے جس قانون کی منظوری تھی اُس کے تحت دہشتگردی سے جڑے مختلف نوعیت کے جرائم کے لیے پانچ سال قید سے لے کر موت کی سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے دو سال سے جاری شورش سے نمٹنے کے لیے ایک قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی اور اس قانون کا نفاذ کرنے والوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

اس قانون میں دہشتگردی سے جڑے مختلف نوعیت کے جرائم کے لیے پانچ سال قید سے لے کر موت کی سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

پولیس اور فوج کے اہلکاروں کو اس قانون کو نافذ کرنے میں ’’اپنے فرائض کی ادائیگی‘‘ کے دوران طاقت کے مناسب استعمال کے قانونی مضمرات سے تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

السیسی نے جولائی میں ایک کار بم حملے کے بعد وعدہ کیا تھا کہ وہ ایک سخت قانونی نظام لے کر آئیں گے۔ اس حملے میں مصر کے اٹارنی جنرل ہلاک ہو گئے تھے۔

کسی ایسی تنظیم جسے حکومت ’’دہشتگرد عنصر‘‘ سمجھتی ہو کو بنانے یا اس کی رہنمائی کرنے کی سزا موت یا عمر قید ہے۔ ایسی تنظیموں کی رکنیت کی سزا 10 سال تک قید ہو سکتی ہے۔

’’دہشتگرد تنظیموں‘‘ کی مالی معاونت کے لیے بھی عمر قید کی سزا تجویز کی گئی ہے، جو مصر میں پچیس سال ہے۔ تشدد پر اکسانے جس میں ’’ایسے خیالات کی ترویج‘‘ بھی شامل ہے جو تشدد پر اکساتے ہیں کی سزا سات سے دس سال قید ہو گی۔ یہی سزا ایسے خیالات پھیلانے والی ویب سائٹوں کو بنانے یا استعمال کرنے کی ہے۔

دہشتگردی کے واقعات میں حکومتی مؤقف کی تردید کرنے والے صحافیوں کو جرمانہ کیا جائے گا۔

مصر کو شمالی علاقے صحرائے سینا میں ایک متشدد بغاوت کا سامنا ہے جہاں سب سے فعال دہشتگرد تنظیم نے داعش سے وفاداری کا اعلان کر رکھا ہے۔

قاہرہ اور کئی دیگر شہروں میں دہشتگردی کے واقعات ہو چکے ہیں جس کی ذمہ داری اس تنظیم نے قبول کی۔

پہلے منتخب صدر محمد مُرسی کی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج کے بعد اس وقت فوج کے سربراہ السیسی نے محمد مرسی کو معزول کر دیا تھا۔

السیسی نے اقتدار میں آنے کے بعد عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔

اسلامی عسکریت پسندوں کے ہزاروں مشتبہ حامیوں کو قید کیا گیا ہے جبکہ درجنوں کو موت کی سزا سنائی گئی ہے جن میں مرسی اور اخوان المسلمین کے دیگر اعلیٰ عہدیدار شامل ہیں۔

حکومت اخوان کو ایک دہشتگرد تنظیم سمجھتی ہے اور اس میں اور دیگر شدت پسند تنظیموں میں کوئی تفریق نہیں کرتی۔ اخوان کا مؤقف ہے کہ وہ پرامن طور پر سرگرم رہنے کے لیے پرعزم ہے۔

فروری میں السیسی نے دہشتگردی کے خلاف ایک اور قانون پر دستخط کیے تھے جس کے تحت حکام کو وسیع اختیارات دیے گئے تھے کہ وہ قومی یکجہتی کو زک پہنچانے اور امن و امان کو خراب کرنے جیسے الزامات کے تحت تنظیموں پر پابندی عائد کر سکیں۔

XS
SM
MD
LG