رسائی کے لنکس

logo-print

مصر: جمعرات سے ہنگامی حالات ہٹائے جانے کا امکان


بدھ کے دِن جیل سے جاری ہونے والے اپنے ایک پیغام میں، برطرف صدر نے کہا ہے کہ مصر کو اُس وقت تک استحکام نصیب نہیں ہوگا جب تک انقلاب کی بساط نہیں لپیٹی جائے گی، اور ذمہ داروں کو احتساب کے کٹہرے میں نہ لا کھڑا کیا جائے گا۔

مصر میں تین ماہ قبل نافذ کی جانے والی ہنگامی حالت اور کچھ مقامات پر رات کے کرفیو کے نفاذ کو ، حکام نے جمعرات کے دِن سے ہٹانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جس سے قبل لوگوں کے خلاف مہلک کارروائی ہوئی تھی۔ یہ لوگ فوج کی طرف سے جمہوری طور پر منتخب، اسلام پرست صدر محمد مرسی کو ہٹائے جانے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

اُس کریک ڈاؤن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ حکام اخوان المسلمین کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں، جن کی زیادہ تر قیادت کو گرفتار کیا جا چکا ہے ، جب کہ عبوری حکومت کے خلاف مظاہرے اور جھڑپیں بھی جاری رہی ہیں۔

ساتھ ہی ساتھ، فوج کی حمایت سے چلنے والی حکومت ایک عبوری منصوبے پر عمل درآمد کے لیے کوشاں ہے، جس کے تحت آئندہ سال نئے صدر اور نئے پالیمان کے لیے انتخابات ہونے والے ہیں۔

بدھ کے دِن جیل سے جاری ہونے والے اپنے ایک پیغام میں، برطرف صدر نے کہا ہے کہ مصر کو اُس وقت تک استحکام نصیب نہیں ہوگا جب تک اُس انقلاب کی بساط نہیں لپیٹی جائے گی، اور ذمہ داروں کو احتساب کے کٹہرے میں نہ لا کھڑا کیا جائے گا۔

ایک وکیل نے اُن کا مراسلہ پڑھ کر سنایا، جس میں مسٹر مرسی نے جولائی میں اُن کی معطلی کے خلاف احتجاج کرنے پر اپنے حامیوں کو سراہا، اور اُنھوں نے مصر کے فوجی سربراہ، جنرل عبد الفتاح السیسی پر غداری کا الزام لگایا۔

وکیل نے کہا کہ مسٹر مرسی اُنھیں ہٹانے والوں کے خلاف عدالت میں مقدمہ درج کرنے پر غور کر رہے ہیں، جس میں اِس جنرل کے اقدامات کو کالعدم دینے کی استدعا کی جائے گی۔
XS
SM
MD
LG