رسائی کے لنکس

logo-print

مصری ارب پتی کا پناہ گزینوں کے لیےجزیرہ خریدنے کا اعلان


نجیب ساویریس نے کہا کہ وہ پناہ گزینوں کے بحران کےحل کی ایک کوشش کرنا چاہتے ہیں اور شام اور دیگر جنگ زدہ علاقوں کو چھوڑ کر آنے والے مہاجرین کی آبادکاری کے لیے یونان یا اٹلی سے ایک جزیرہ خریدنے کے لیے تیار ہیں۔

دنیا تارکین وطن کے ایک غیر معمولی بحران سے گزر رہی ہے، ایسے میں ایک مصری دولت مند شخص نے شامی پناہ گزینوں کے لیے بحیرہ روم کا ایک جزیرہ خریدنے کا اعلان کیا ہے، جہاں وہ مہاجرین کی عارضی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔

مصر کی کامیاب ترین کاروباری شخصیت نجیب ساؤیریس نے کہا کہ وہ پناہ گزینوں کے بحران کےحل کی ایک کوشش کرنا چاہتے ہیں اور شام اور دیگرجنگ زدہ علاقوں کو چھوڑ کر آنے والے مہاجرین کی آبادکاری کے لیے یونان یا اٹلی سے ایک جزیرہ خریدنے کے لیے تیار ہیں۔

نجیب ساؤیرس مواصلات کے ایک نیٹ ورک کے چیف ایگزیکٹیو ہیں۔ وہ مصر کے ایک ٹی وی چینل کے بھی مالک ہیں، ان کا شمار نا صرف مصر بلکہ عرب دنیا کی دولت مند شخصیات میں ہوتا ہے۔ فوربز کے مطابق ان کی دولت کی مالیت دو ارب نوے کروڑ ڈالر ہے۔

نجیب ساؤیریس نے اپنے منصوبے کا اعلان سب سے پہلے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیا، اور بعد میں انھوں نے اس منصوبے کو حقیقت بنانے کے لیے اپنے وسائل وقف کرنے کا اعلان کیا۔

انھوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ اگر اٹلی یا یونان کی حکومت مجھے ایک جزیرہ فروخت کرتی ہے، تو میں اس جزیرے پر میں پناہ کے متلاشی افراد کی میزبانی کروں گا، انھیں روزگار فراہم کروں گا اور ان کے نئے ملک کی تعمیر کروں گا۔

انھوں نے ہفتے کو اپنے ٹوئٹر کے صفحے پر مزید لکھا کہ میں نے جزیرہ کے لیے 'ایلان' نام سوچا ہے تاکہ یہ نام ہمیں ہمیشہ اس شامی بچے کی یاد دلائے، جسے بحیرہ روم کے سمندر کی لہروں نے ترکی کے ساحل پر مردہ حالت میں چھوڑ دیا تھا اور اب مجھے جزیرے کی تلاش ہے۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ وہ اٹلی یا یونان میں ایک مناسب جزیرہ تلاش کر رہے ہیں، جس کی لاگت 10 سے 100 ملین ڈالر کے درمیان آئے گی۔

تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ شہر کے بنیادی ڈھانچے کے اخراجات اور پناہ گزینوں کی امداد کے لیے انھیں اضافی فنڈز کی بھی ضرورت ہو گی۔

نجیب ساؤ یریس کے مطابق ''وہاں ان کی رہائش کے لیے عارضی بستیاں ہونے چاہیئں ہم وہاں عمارتوں، اسکولوں، اسپتالوں اور یونی ورسٹیوں کی تعمیر کے ذریعے ان کو روزگار فراہم کرنا شروع کریں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ان کے آبائی ملکوں میں حالات بہتر ہو جاتے ہیں، تو وہ واپس اپنے وطن لوٹ سکتے ہیں''۔

انھوں نے ایک سوال پر کہ کیا یہ حقیقت میں ممکن ہو سکے گا، کہا کہ یقیناً ہم یہ کر سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ اس منصوبے کے بارے میں یونان اور اٹلی کی حکومتوں سے رجوع کریں گے کیونکہ اٹلی اور یونان کے پاس درجنوں ایسے جزائر ہیں جو ویران پڑے ہیں، جنھیں خریدا جاسکتا ہے۔

تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ اس منصوبے میں انھیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، ایک طرف تو انھیں اٹلی یا یونان کو جزیرے کی فروخت ہر آمادہ کرنا ہو گا اور پھر قانونی قواعد و ضوابط اور دیگر معاملات میں بھی چیلنجوں سے واسطہ پڑ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ساؤیریس پہلے امیر ترین شخص نہیں ہیں، جنھوں نے مہاجرین کی آبادکاری کے لیے نئی ریاست کی خواہش کا اظہار کیا ہے بلکہ، ان سے پہلے ایک ایک امریکی کاروباری شخص نے بھی پناہ گزینوں کے لیے علیحدہ ریاست قائم کرنے کا منصوبہ پیش کیا تھا۔

کیلی فورنیا میں سان فرانسسکو سے تعلق رکھنے والے ایک مشہور رئیل اسٹیٹ کمپنی کے مالک جیسن بوزی نے پناہ گزینوں کے بحران کے حل کے سلسلے میں حال ہی میں تجویز پیش کی تھی کہ دنیا کے کم آبادی والے علاقے کی خریداری کی جائے، اور وہاں پناہ گزینوں کو ایک نئی زندگی شروع کرنے کا موقع دیا جانا چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG