رسائی کے لنکس

logo-print

مصر: 'قابلِ اعتراض' ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے پر 5 خواتین کو 2، 2 سال قید


فائل فوٹو

مصر کی ایک عدالت نے ٹک ٹاک پر رقص کی 'قابلِ اعتراض' ویڈیوز پوسٹ کرنے کے الزام میں پانچ خواتین کو دو، دو سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔ ناقدین نے اس فیصلے کو قدامت پسند مصری معاشرے میں اظہارِ رائے پر پابندیوں کی کڑی قرار دیا ہے۔

پبلک پراسیکیوٹر کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے بیان کے مطابق خواتین کو مصر میں خاندانی اقدار اور اصولوں کی خلاف ورزی کے جرم میں سزا دی گئی۔ خواتین کے وکلا نے فیصلے کے خلاف اعلٰی عدلیہ میں اپیل دائر کرنے کا ااعلان کیا ہے۔

جن خواتین کو سزائیں سنائی گئی ہیں ان میں سے 20 سالہ طالبہ حنین حسام اور 22 سالہ مودہ الادھم کی شناخت ظاہر کی گئی ہے جب کہ دیگر تین خواتین کو ان دونوں خواتین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلانے کے جرم میں سزا دی گئی ہے۔

سزا پانے والی ہر خاتون کو تین لاکھ مصری پونڈ کا جرمانہ بھی کیا ہے۔ یہ رقم لگ بھگ 19 ہزار امریکی ڈالر بنتی ہے۔

ویڈیو ایپ 'ٹک ٹاک' پر لاکھوں فالوورز رکھنے والی ان دونوں خواتین نے 15، 15 سیکنڈز کی اپنی ویڈیوز میں میک اپ کر کے گاڑیوں میں سوار ہونے اور کچن میں رقص کرنے جیسی ویڈیوز پوسٹ کی تھیں جو 'ٹک ٹاک' پر معمول کی ویڈیوز سمجھی جاتی ہیں۔

واضح رہے کہ مصر کے قانون کے تحت سوشل میڈیا پر قابلِ اعتراض مواد پوسٹ کرنے پر سزا دی جا سکتی ہے۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے اظہارِ رائے پر قدغن قرار دیتی ہیں۔

مصر کے قدامت پسند معاشرے میں ان دونوں خواتین کی مذکورہ ویڈیوز ان کے لیے مصیبت بن گئیں۔ جہاں سوشل میڈیا کے غلط استعمال اور غلط خبروں کے پھیلاؤ کے جرم میں سزا ہوسکتی ہے۔ (فائل فوٹو)
مصر کے قدامت پسند معاشرے میں ان دونوں خواتین کی مذکورہ ویڈیوز ان کے لیے مصیبت بن گئیں۔ جہاں سوشل میڈیا کے غلط استعمال اور غلط خبروں کے پھیلاؤ کے جرم میں سزا ہوسکتی ہے۔ (فائل فوٹو)

مودہ الادھم کی ایک وکیل ثمر شبانہ نے کہا ہے کہ دو سال قید اور 19 ہزار ڈالرز جرمانہ بہت بڑی سزا ہے جسے سننے کے بعد الادھم کمرۂ عدالت میں رونے لگی تھیں۔

ثمر شبانہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ خواتین سوشل میڈیا پر فالوورز حاصل کرنا چاہتی تھیں اور وہ کسی جسم فروش نیٹ ورک کا حصہ نہیں۔

واضح رہے کہ ان دونوں سوشل میڈیا اسٹارز نے اپنی ویڈیوز میں مصری خواتین اور لڑکیوں پر زور دیا تھا کہ وہ پیسے کے عوض اجنبیوں کے ساتھ چیٹ کریں اور انہیں اپنی ویڈیوز بھیجیں، جس پر ان کے خلاف کئی حلقوں نے غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔

تاہم مودہ الادھم کی وکیل کا کہنا تھا کہ ان خواتین کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ ان کی مذکورہ ویڈیوز کو غلط تناظر میں دیکھا جائے گا۔

مصر کو دیگر مسلم اکثریتی عرب ریاستوں کی نسبت روشن خیال سمجھا جاتا ہے۔ لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق مصری معاشرے میں قدامت پسندی کا رُجحان فروغ پا رہا ہے۔

مصر میں بیلی ڈانسرز، پاپ میوزک کے شائقین اور سوشل میڈیا ایپس پر اس نوعیت کی ویڈیوز پوسٹ کرنے والوں کو اکثر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کے 2013 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد 'اخلاقی اقدار' کے نام پر شخصی آزادیوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی آئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG