رسائی کے لنکس

logo-print

مصر: مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے ملک گیر مظاہرے


فریقین کی جانب سے بیک وقت مظاہروں کی اپیل کے بعد ساڑھے آٹھ کروڑ آبادی والے عرب دنیا کے اس سب سے بڑے ملک میں محاذ آرائی اور تشدد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

مصر میں جمعے کو لاکھوں افراد نے فوج کے ہاتھوں برطرف صدر محمد مرسی کی حمایت اور مخالفت میں ہونے والے الگ الگ مظاہروں میں شرکت کی ہے جب کہ ملک کی فضا انتہائی کشیدہ ہے۔

برطرف صدر کی جماعت 'اخوان المسلمون' نے محمد مرسی کی بحالی اور فوجی اقدام کی مخالفت پر جمعے کو 'یوم الفرقان' قرار دیتے ہوئے اپنے حامیوں سے ملک گیر مظاہروں کی اپیل کی تھی۔

دوسری جانب محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے والے مصری فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے بھی مصری عوام سے کہا تھا کہ وہ جمعے کو بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل کے"فوج کو دہشت گردی اور تشدد سے نبٹنے کا مینڈیٹ دیں"۔

فریقین کی جانب سے بیک وقت مظاہروں کی اپیل کے بعد ساڑھے آٹھ کروڑ آبادی والے عرب دنیا کے سب سے بڑے ملک میں محاذ آرائی اور تشدد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کے کئی شہروں میں مخالف مظاہرین کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں ہلاکتوں اور بڑی تعداد میں لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ مصر کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ میں ہونے والی جھڑپوں میں چار افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک شدگان میں سے تین کو چاقوؤں کے وار کرکے جب کہ چوتھے کو سر میں گولی مار کر قتل کیا گیا۔

اسکندریہ میں موجود برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے ایک رپورٹر کے مطابق شہر میں سیکڑوں مشتعل مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں جن میں آتشیں اسلحے استعمال کیا جارہا ہے جب کہ عمارتوں کی چھتوں پر چڑھے ہوئے لوگ نیچے موجود مظاہرین پر پتھر برسا رہے ہیں۔

'رائٹرز' کے مطابق دریائے نیل کے کنارے واقع شہر دمیتا میں بھی مخالف مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم سات افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق دارالحکومت قاہرہ کی صورتِ حال تاحال پرامن ہے جہاں دونوں جانب ہونے والے مظاہروں میں ہزاروں افراد شریک ہیں۔

لیکن حکام اور صحافیوں نے شہر کی انتہائی کشیدہ صورتِ حال کے پیشِ نظر خدشہ ظاہر کیا ہے کہ شام ڈھلنے کے بعد فریقین کے درمیان تشدد کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔

مصری فوج کی جانب سے تین ہفتے قبل ملک کے پہلے منتخب اور اسلام پسند صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے اب تک ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کے دوران میں لگ بھگ دو سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں اکثریت محمد مرسی کے حامیوں کی ہے۔

بیشتر ہلاکتیں دارالحکومت قاہرہ میں ہوئی ہیں جہاں سابق صدر کے ہزاروں حامی گزشتہ تین ہفتوں سے ایک میدان میں دھرنا دیے ہوئے ہیں اور شہر میں مختلف مقامات پر روزا نہ احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔

فوج کے سربراہ جنرل السیسی کی اپیل پر سیکولر اور لبرل جماعتوں کے کارکن فوج کی حمایت اور 'اخوان المسلمون' کے مظاہروں کے خلاف دارالحکومت کے تحریر چوک پر جمع ہیں۔

'رائٹرز' کے مطابق تحریر چوک میں جمع فوج کے حامی مظاہرین کے سروں پر فوجی ہیلی کاپٹر پرواز کر رہے ہیں جن پر مصر کے قومی پرچم آویزاں ہیں۔

مصری فوج کے افسران نے خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی بندوقوں کا رخ جمعے کو ہونے والے مظاہروں کے دوران میں پرتشدد راستہ اختیار کرنے والوں کی طرف کردیں گے۔

جب کہ 'اخوان المسلمون' اور اس کی اتحادی جماعتوں نے فوج کی اس دھمکی اور مظاہروں کی اپیل کو ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے جانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

جمعے کو ہونے والے مظاہروں سے چند گھنٹے قبل مصر کی ایک عدالت نے فوج کی تحویل میں موجود برطرف صدر محمد مرسی سے فلسطین کی اسلام پسند مزاحمتی تنظیم 'حماس' کے ساتھ ساز باز کرنے کے الزام تفتیش شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے محکمہ استغاثہ کو کہا تھا کہ وہ اس الزام کی تفتیش شروع کرے کہ آیا محمد مرسی نے 2011ء میں اس وقت کے صدر حسنی مبارک کے خلاف جاری تحریک میں اپنے درجنوں اسلام پسند ساتھیوں سمیت جیل سے فرار ہونے میں حماس کی مدد حاصل کی تھی یا نہیں۔

مصر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق عدالت نے محمد مرسی کو ان الزامات میں 15 دن کے لیے حراست میں رکھنے کا بھی حکم دیا ہے۔

فوج نے محمد مرسی کو تین جولائی کو صدارت سے برطرف کرنے کے بعد سے نامعلوم مقام پر اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے اور انہیں اب تک منظرِ عام پر نہیں لایا گیا۔

گزشتہ ہفتے سابق صدر کے اہلِ خانہ نے مصری فوج پر انہیں حبسِ بے جا میں رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے فوجی سربراہ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔
XS
SM
MD
LG