رسائی کے لنکس

logo-print

ایک مسیحی خاتون کا مسلمان قصائی کو عید کا تحفہ


ایسے میں اخبارات میں شائع ہونے والی خبر اور مسٹر ریاض کی حالت زار سے متاثر ہو کر ایک انجان رحم دل مسیحی خاتون نے مسٹر ریاض کے خاندان کو ایک خط اور چیک دے کر عید کا تحفہ بھیجا ہے۔

انسان کو فی زمانہ جتنی انسانیت اور ایثار کی ضرورت ہے شاید پہلے کبھی نہیں تھی لیکن اطمینان کی بات یہ ہے کہ انسانی اور اخلاقی قدریں آج بھی زندہ ہیں اور دنیا میں اچھے اور بے غرض لوگوں کی کمی نہیں ہے، جو رنگ و نسل، مذہب و عقیدے اور رتبے کے تفرقات سے بالاتر ہو کر صرف انسانیت پر یقین رکھتے ہیں۔

برطانیہ کے شہر بریڈ فورڈ سے تعلق رکھنے والے محمد ریاض کی قصاب کی دوکان میں عید الفطر سے پہلے ڈکیتی کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں وہ ڈاکوؤں کے ساتھ مزاحمت کرتے ہوئے بری طرح زخمی ہو گئے تھے لیکن، شدید چوٹوں کے باوجود اپنی دوکان چلانے پر مجبور تھے۔

ایسے میں اخبارات میں شائع ہونے والی خبر اور مسٹر ریاض کی حالت زار سے متاثر ہو کر ایک انجان رحم دل مسیحی خاتون نے مسٹر ریاض کےخاندان کو ایک خط اور چیک دے کر عید کا تحفہ بھیجا ہے۔

جین کے نام سے شناخت کی جانے والی خاتون کا کہنا ہے کہ وہ مسٹر ریاض کے خاندان کی مصیبت میں کام آنا چاہتی ہیں اسی لیے وہ ایک خط اور ایک ہزار پاؤنڈ کا چیک ارسال کر رہی ہیں جسے عید کا تحفہ سمجھ کر قبول کر لیا جائے۔

محمد ریاض گوشت کی دوکان پر کام کرتے ہیں، تین جولائی کو دوکان پر ڈکیتی کی واردات کے دوران ان کا جبڑا اور دانت ٹوٹ گئے اور جسم پر چوٹیں آئی تھیں۔

اس واقعے میں ان کی دوکان سے 3000 پاؤنڈ کی رقم بھی چوری کی گئی تھی جبکہ عید میں چند ہی دن باقی بچے تھے۔

تاہم مسٹر ریاض اور ان کے خاندان کو مقامی کمیونٹی اور خاص طور پر اجنبی خاتون کی رحم دلی نے انتہائی متاثر کیا ہے۔

خاتون نے مسٹر ریاض کے نام لکھے جانے والے خط میں لکھا کہ ''مجھے آپ کی دوکان پر ڈکیتی کا پڑھ کر افسوس ہوا ہے، میں ایک مسیحی خاتون ہوں اور یسوع مسیح کی تعلیم ہے کہ اگر ہم کسی کو مصیبت میں گرفتار دیکھیں تو ہمیں وہاں سے اس کی مدد کئے بغیر نہیں چلے جانا چاہیئے مہربانی کر کے یہ چیک منظور کر لیں جو آپ کی عید کی خوشیوں کو دوبالا کرے گا۔''

مسٹر ریاض کی چھبیس سالہ بیٹی نفیسہ نے ہفنگٹن پوسٹ یوکے کو بتایا کہ خاتون کی مہربانی دیکھ کر ہماری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ان کے خط، چیک اور انسانیت نے ہمارے دلوں کو چھوا ہے۔

نفیسہ نے کہا کہ وہ مہربان خاتون ایک مسیحی ہیں اور ہم مسلمان ہیں، وہ ہمیں نہیں جانتی ہیں اور نا ہی وہ ہمارے علاقے کی رہنے والی ہیں لیکن اس کے باوجود جو انھوں نے ہمارے لیے کیا ہے وہ انسانی ہمدردی اور خلوص کا بہترین عمل ہے۔

نفیسہ نے بتایا کہ میرا خاندان جمعے کے روز مہربان خاتون سے ملنے جا رہا ہے۔ وہ اجنبی خاتون سے مل کر ذاتی طور پر ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG