رسائی کے لنکس

پاکستان میں اجتماعی قربانی کے رجحان میں اضافہ


اجتماعی قربانی لوگوں کیلئے آسان ہے. انہیں کوئی مہنگا بیل یا مہنگا بکرا نہیں خریدنا پڑتا۔ غریب آدمی بھی اس میں حصہ ڈال سکتا ہے اور لوگ حصہ ڈالتے ہیں۔

وقت اور جگہ کی کمی اور مویشیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث پاکستان میں فلاحی اداروں، مدرسوں اور مسجدوں میں ہونے والی اجتماعی قربانی کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ متوسط طبقے کے بہت سے گھرانوں کو اجتماعی قربانی کا یہ طریقہ کار کافی محفوظ اورکسی حد تک سستا بھی دکھائی دے رہا ہے۔

پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں درجنوں مقامات پر اجتماعی قربانی کی گئی۔ اجتماعی قربانی لوگوں کیلئے آسان ہے. انہیں کوئی مہنگا بیل یا مہنگا بکرا نہیں خریدنا پڑتا۔ غریب آدمی بھی اس میں حصہ ڈال سکتا ہے اور لوگ حصہ ڈالتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے سب سے بڑا زریعہ مختلف مساجد اور مدارس ہیں جہاں اجتماعی قربانی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ محلوں کی مقامی مساجد اور مدارس کے علماٗ عید سے کئی روز قبل اجتماعی قربانی کا اعلان کردیتے ہیں اور عید کے دن باقاعدہ ایک ہی قصاب کو ٹھیکہ دیکر جانور زبح کروائے جاتے ہیں، اس میں مساجد اور مدارس کو فائدہ کھالوں کی صورت میں ہوتا ہے اور تمام کھالیں اسی مسجد یا مدرسہ کو چندہ میں مل جاتی ہیں۔

اجتماعی قربانی کے رجحان سے ایک مثبت پیش رفت کا اظہار ہورہا ہے جس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ان میں ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں اضافہ، رہائشی علاقوں میں جانوروں کے لیے مناسب جگہوں کی کمی، جانوروں کے چارے کی بلند قیمتیں وغیرہ شامل ہیں۔

اجتماعی قربانی کی ایک بڑی وجہ قصابوں کے بڑھتے ہوئے ریٹس بھی ہیں۔ اس مرتبہ عیدالضحیٰ پر دنبے اور بکرے کو زبح کرنے کا ریٹ 35سو سے 5 ہزار جبکہ بیل اور گائے کو زبح کروانے کے لئے 10 سے 15 ہزار روپے تک وصول کیے گئے۔ اجتماعی قربانی کی صورت میں اس رقم کو بھی سات حصوں میں برابر تقسیم کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں پر زیادہ بوجھ نہیں پڑتا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں شہری عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ گائے اور بیل کی قربانی میں ایک حصے کا نرخ دس ہزار سے بارہ ہزار ہے لیکن بکروں کی قیمت بیس ہزار سے ستر اسی ہزار ہے جس کی وجہ سے اجتماعی قربانی کو فوقیت دی جا رہی ہے۔

شہری اقبال ارشد نے بتایا کہ ہمارا بھی شوق ہے کہ جانور کو قربانی سے قبل گھر میں رکھ کر اس کو پالیں لیکن جس طرح کا ماحول وہ چاہتے ہیں ہم انہیں دے نہیں پاتے۔ اس لیے اجتماعی قربانی میں حصہ ڈالا ہے۔ عدیل خان نے کہا کہ گھر میں بکرا لا کر رکھنا اور پھر عید کے دن تک اس کو سنبھالنا تقریباً ناممکن ہوگیا ہے،” اب بندہ نوکری کرے یا بکرا سنبھالے”

چمڑے کی صنعت سے وابسطہ تنظیم آل پاکستان ٹینریز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے بتایا کہ رواں سال 38 لاکھ بکروں کی قربانی متوقع ہے جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 40 لاکھ تھی۔

ملک بھرمیں عید پر گائے بیل کی قربانی 10 لاکھ سے بڑھ کر 25 لاکھ متوقع ہے۔ عید الاضحٰی پر 30 اونٹ اور 8لاکھ دنبوں کی قربانی کئے جانے کی توقع ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG