رسائی کے لنکس

logo-print

کرم ایجنسی: بم دھماکے میں ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد ہلاک


دھماکے کے زخمی کو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔

حکام نے بتایا ہے کہ ایک ہی خاندان کے افراد گاڑی میں جا رہے تھے جب ان کی گاڑی سڑک میں پہلے سے نصب دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول بم سے ٹکرا گئی۔

افغانستان کی سرحد سے متصل پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے ایک گائوں میں دیسی ساختہ بم کے دھماکے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا ہے۔

کرم ایجنسی کے مرکزی قصبہ پاڑہ چنار میں تعینات حکام نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ ایجنسی کے علاقے غوز گڑھی کے سرحدی گائوں مسقبل میں یہ واقعہ منگل کی صبح پیش آیا۔

حکام نے بتایا ہے کہ ایک ہی خاندان کے افراد گاڑی میں جا رہے تھے جب ان کی گاڑی سڑک میں پہلے سے نصب دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول بم سے ٹکرا گئی۔

بم دھماکے سے گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی جبکہ اس میں موجود پانچ افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ دھماکے کے تین زخمیوں نے بعد میں دم توڑ دیا۔

ایک زخمی کو ہسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے لیکن اس کی حالت بھی تشویش ناک بتائی جارہی ہے۔

دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

ابھی تک کسی فرد یا گروہ نے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ تاہم انتظامی حکام نے اس واقعے کو دہشت گردی قرار دیا ہے۔

کرم ایجنسی کا علاقہ غوز گڑھی پاک افغان سرحد سے متصل ہے جہاں گزشتہ چند ماہ سے تواتر سے مبینہ امریکی ڈرون حملے ہوتے رہے ہیں۔

پاکستانی حکام ان ڈرون حملوں کی زبانی مذمت کرتے ہیں اور اس سلسلے میں امریکی حکام سے احتجاج بھی کیا جاتا رہا ہے۔

تاہم امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ڈرون حملوں کا نشانہ افغانستان میں دہشت گردی میں ملوث عسکریت پسند ہیں جنہوں نے پاکستان میں اپنے ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG