رسائی کے لنکس

غیر جانبدار حلقوں کی طرف سے بھی اس خدشے کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ انتخابی اصلاحات کی پارلیمان سے منظوری میں تاخیر کی صورت ان کے موثر نفاذ کے لیے درکار وقت کم رہ جائے گا

چیف الیکشن کمشنر نے متنبہ کیا ہے کہ اگر انتخابی اصلاحات کا قانون بروقت منظور نہیں کیا گیا تو آئندہ عام انتخابات کے آزادانہ اور شفاف انعقاد کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

2013ء کے عام انتخابات کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے ان کی شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے جب کہ حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے حکمران مسلم لیگ (ن) پر دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے تقریباً چار ماہ تک اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے دھرنا بھی دیے رکھا تھا۔

2014ء میں حکومت نے تمام پارلیمانی جماعتوں کے نمائندہ قانون سازوں پر مشتمل ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جس کے ذمے انتخابی اصلاحات کا مسودہ تیار کرنا تھا۔

یہ کمیٹی گزشتہ سال دسمبر میں ایک مسودہ تیار کر چکی ہے لیکن اس کی مختلف شقوں پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے اسے ابھی تک پارلیمان میں پیش نہیں کیا جا سکا ہے۔

بدھ کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے حکام کے ایک تربیتی کورس کے اختتام پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ انتخابات کو منصفانہ اور شفاف بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے لیکن اگر انتخابی اصلاحات وقت پر نافذ نہیں ہوتیں تو یہ تمام کوششیں رائیگاں جائیں گی۔

"جو کام بھی قانونی طور پر ہمارے ذمے ہیں ان سب کا انحصار آئندہ اصلاحات پر ہے۔ اگر یہ اصلاحات ٹھیک وقت پر نہ ہوئیں تو آپ کی اور ہماری تمام کوششیں رائیگاں جائیں گی۔ اس سلسلے میں میں حکومت سے اور تمام متعلقہ اداروں سے گزارش کروں گا وہ انتخابی اصلاحات کے قانون کو جلدی پاس کریں تاکہ ہم اس کے مطابق شفاف انتخابات کروا سکیں۔"

انتخابی اصلاحات میں عبوری حکومتوں کے قیام کے طریقہ کار سمیت انتخابی عمل کے لیے لائحہ عمل درج ہوگا۔ تحریک انصاف کی طرف سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے، انتخابات میں الیکٹرونک مشینوں کے ذریعے ووٹ ڈالنے اور بائیومیٹرک سے ووٹر کی تصدیق جیسی تجاویز دی گئی تھیں جن پر کمیٹی کے بعض دیگر ارکان کی طرف سے تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا۔

تاہم رواں ماہ کمیٹی کے ہونے والے اجلاس میں انتخابی اصلاحات کو جلد پارلیمان میں پیش کرنے کی توقع کی اظہار بھی دیکھنے میں آچکا ہے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور انتخابی اصلاحات کمیٹی کے رکن سلیم ضیا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ کمیٹی اپنا بہت سا کام مکمل کر چکی ہے اور امید ہے کہ بجٹ کے بعد یہ مسودہ پارلیمان میں پیش کر دیا جائے گا۔

آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ جمعہ کو ایوان میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔

غیر جانبدار حلقوں کی طرف سے بھی اس خدشے کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ انتخابی اصلاحات کی پارلیمان سے منظوری میں تاخیر کی صورت ان کے موثر نفاذ کے لیے درکار وقت کم رہ جائے گا اس لیے ضروری ہے کہ انھیں جلد منظور کیا جائے۔

آئین کے مطابق آئندہ عام انتخابات 2018 کے وسط میں ہونے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG