رسائی کے لنکس

logo-print

سابق فاٹا میں انتخابی مہم جاری، تمام بڑی سیاسی جماعتیں میدان میں


جماعت اسلامی پاکستان کے امیدوار پریس کانفرنس کے بعد

خیبر پختونخوا میں شامل ہونے والے سابق قبائلی اضلاع کی تاریخ میں آئندہ 20 جولائی کو ایک نیا دن رقم ہونے جا رہا ہے جب ان علاقوں کے لگ بھگ 28 لاکھ افراد خیبر پختونخوا کی اسمبلی کے لیے 16 عام نشستوں پر اپنے نمائندے منتخب کریں گے۔

سابق سات قبائلی ایجنسیوں اور چھ فرنیٹرریجنز سے 16 عام نشستوں پر اس وقت 284 امیدوار انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں جن میں تقریبا 200 آزاد امیدوار ہیں۔ ملک بھر کے سیاسی عمل میں سرگرم کم و بیش 10 سیاسی جماعتوں نے مختلف اضلاع میں امیدوار کھڑے کر دئیے ہیں جن میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے تمام 16 نشستوں، حزب اختلاف کی جمعیت علماء اسلام (ف) نے 15، جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی نے 13، 13، پاکستان پیپلز پارٹی نے 12 اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 5 نشستوں پر امیدوار نامزد کیے ہیں۔ جبکہ قومی وطن پارٹی جمعیت علماء اسلام (س) اور پاک سرزمین پارٹی سے تعلق رکھنے والے بعض امیدوار بھی انتخابی مہم میں نظر آرہے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ایک سیاسی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے
پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ایک سیاسی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے

انتخابی مہم کے سلسلے میں حزب اختلاف میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری، عوامی نیشنل پارٹی کے اسفندیار ولی، قومی وطن پارٹی کے آفتاب احمد شیرپاو اور جماعت اسلامی کے سراج الحق سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے اہم رہنماؤں نے انتخابی جلسوں سے خطاب کئے ہیں۔

پچھلے ایک سال کے دوران وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ محمود خان سمیت حکمران جماعت کے سرکردہ رہنماؤں نے عوامی حمایت کے حصول کیلئے مختلف قبائلی اضلاع کے دورے کئے ہیں۔ مگر اب انتخابی مہم کے دوران وہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے قواعد و ضوابط کے تحت انتخابی مہم میں حصہ لینے سے قاصر ہیں۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان سہیل احمد خان کے مطابق 20 جولائی کو ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں تمام تیاریاں مکمل ہیں اور انتخابات سے دو دن قبل بیلٹ پیپر، بیلٹ باکس اور دیگر سامان کی ترسیل شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی میں پولیس، ایف سی اور فوج کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔

سابق سینٹر افراسیاب خٹک نے کہا کہ انتخابی عمل کو پہلے ہی سے مشکوک بنا دیا گیا ہے کیونکہ نوجوانوں کی مقبول تحریک(پی ٹی ایم) کے سرکردہ رہنماؤں کو قید کر کے انتخابی عمل سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

شمالی وزیرستان سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ملک غلام نے انتخابی مہم پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے جانب سے کسی قسم کی پابندی یا رکاوٹ نہیں ہے۔ ضلع خیبر سے جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لینے والے شاہ فیصل آفریدی نے الزام لگایا ہے کہ حکومتی ادارے حکمران جماعت کے امیدواروں اور کارکنوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔

شمالی وزیرستان سے آزاد امیدوار انعام جان نے کہا کہ انتخابی مہم تو صیح طریقے سے جاری ہے مگر الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ابھی تک ان کو ووٹر لسٹیں فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG