رسائی کے لنکس

logo-print

قومی اسمبلی میں انتخابی قوانین ترمیمی بل 2011ءمنظور


گوکہ پاکستان میں عام انتخابات میں ابھی ڈیڑھ سال کا عرصہ باقی ہے تاہم بل کو انتخابی فہرستوں میں درج 3 کروڑ 70 لاکھ بوگس ووٹوں کے حالیہ انکشافات کے تناظر میں نہایت اہم سمجھا جارہا ہے

پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیرکوطویل بحث کے بعد انتخابی قوانین کاترمیمی بل برائے 2011ء منظورکرلیا گیا۔ بل کا مقصدجعلی ووٹنگ کی روک تھام ہے۔

گوکہ پاکستان میں عام انتخابات میں ابھی ڈیڑھ سال کا عرصہ باقی ہے تاہم بل کو انتخابی فہرستوں میں درج 3 کروڑ 70 لاکھ بوگس ووٹوں کےحالیہ انکشافات کےتناظرمیں نہایت اہم سمجھا جارہا ہے ۔مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم، جمعیت علمائے اسلام (ف)اور فاٹا کے اراکین نےحکومت کے حق میں رائے دی جبکہ مسلم لیگ (ن)نے واک آؤٹ کیا ۔
وفاقی وزیر مذہبی امور سید خورشید احمد شاہ نے بل کی منظور ی کے لئے تحریک پیش کی ۔اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ انتخابی فہرستوں میں درج 3 کروڑ 70 لاکھ بوگس ووٹوں میں سے بڑی تعداد پنجاب سے ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر انتخابی فہرستیں صاف اور شفاف ہوں گی تو کسی کو مینڈیٹ پر شب خون مارنے کی جرات نہیں ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ بل اس ایوان کا تقدس بحال کرے گا کہ یہ پارلیمنٹ آنیوالے انتخابات کو شفاف بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صاف اور شفاف انتخابات کا تصور ووٹر لسٹ سے واضح ہوتا ہے۔ جعلی ووٹوں کی سب سے بڑی تعداد پنجاب میں ہے۔ شفاف طریقے سے پارلیمنٹ کا انتخاب ہو گا تو کسی میں جرات نہیں ہو گی کہ وہ پارلیمنٹ کو مینڈیٹ پورا کرنے سے روکے اور پاکستان کو ترقی کی اس راہ پر لیجا سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا یہی وژن ہے ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کا الیکشن کمیشن خود مختار ہو۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رکن زاہد حامد نے بل پر ترمیم پیش کی جس کی وفاقی وزیر سید خورشید احمد شاہ نے مخالفت کی۔ زاہد حامد نے ترمیم کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی قوانین کا مقصد انتخابی عمل کو شفاف بنانا ہے۔ اس غرض سے نادرا کے شناختی کارڈ کو ووٹنگ کیلئے لازمی قرار دینے کے معاملے پر بل کے مسودے کو منظوری سے قبل دوبارہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ ایوان نے یہ تحریک مسترد کر دی۔
وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے کہا کہ اس بل کی منظوری سے دوہری ووٹنگ کا تصور ختم ہو جائے گا۔ تحریک ایوان میں پیش کر کے رائے لے لی جائے۔
ا سپیکرقومی اسمبلی نے تحریک ایوان میں پیش کی ۔ ایوان نے اتفاق رائے سے بل زیر بحث لانے کیلئے تحریک کی منظوری دے دی۔

XS
SM
MD
LG