رسائی کے لنکس

logo-print

شام: غوطہ سے انتہائی بیمار افراد کا انخلا شروع


فائل فوٹو

مشرقی غوطہ کا علاقہ شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے مخالف باغیوں کے قبضے میں ہے اور 2013ء سے سرکاری فوج نے اس علاقے کی کڑی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

شام کے دارالحکومت دمشق کے باغیوں کے زیرِ قبضہ نواحی علاقوں سے فوری طبی امداد کے مستحق انتہائی بیمار افراد کا انخلا شروع کردیا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے دمشق کے نواح میں واقع غوطہ کے مشرقی علاقے سے ان 500 مریضوں کو نکالنے کی اپیل کی تھی جنہیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔

مشرقی غوطہ کا علاقہ شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے مخالف باغیوں کے قبضے میں ہے اور 2013ء سے سرکاری فوج نے اس علاقے کی کڑی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

ناکہ بندی کے باعث علاقے کے چار لاکھ رہائشی ضروریاتِ زندگی کے بغیر سخت مشکل اور اذیت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

ایک غیر سرکاری امدادی تنظیم 'سیرین امیریکن میڈیکل سوسائٹی' (سیم) نے منگل کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ علاقے سے چار مریضوں کو نکال کر دمشق کے اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق یہ چاروں افراد ان 29 انتہائی بیمار مریضوں میں شامل ہیں جن کے پہلے مرحلے میں مشرقی غوطہ سے انخلا کی منظوری دی گئی تھی۔

تنظیم کے مطابق باقی 25 افراد کو بھی آئندہ چند روز کے دوران مشرقی غوطہ سے نکال کر دمشق منتقل کردیا جائے گا۔

انخلا کے منتظر 29 افراد کی اس فہرست میں 18 بچے اور چار خواتین شامل ہیں جو دل اور گردوں کی بیماریوں کے علاوہ کینسر اور خون کے امراض کا شکار ہیں۔ فہرست میں موجود بعض افراد کو سرجری کی بھی ضرورت ہے جو پابندیوں کا شکار غوطہ میں ممکن نہیں۔

'سیم' کے مطابق سخت پابندیوں اور بنیادی طبی سہولتوں کی عدم فراہمی کے باعث غوطہ میں حالیہ چند ہفتوں میں 17 ایسے مریض ہلاک ہوچکے ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے علاقے سے باہر جانے کی ضرورت تھی۔

بین الاقوامی امدادی ادارے 'ریڈ کراس' نے منگل کی شب مریضوں کے انخلا کے عمل کی بعض تصویریں جاری کی ہیں جن میں ایمبولینسوں کو غوطہ کے علاقے سے نکلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے صحت اور تعلیم سے متعلق ادارے 'یونیسیف' کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ امداد لے کر غوطہ جانے والے اس کے رضاکاروں نے بتایا تھا کہ وہاں صحتِ عامہ کی ایسی بدترین صورتِ حال ہے جس کا مشاہدہ شام میں 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے دوران اب تک کہیں نہیں کیا گیا۔

گزشتہ ہفتے شام میں امددی سرگرمیوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کے مشیر جین ایجلینڈ نے کہا تھا کہ طبی بنیادوں پر غوطہ سے فوری انخلا کے منتظر افراد کی تعداد 494 ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ان افراد کی تعداد مسلسل کم ہورہی ہے جس کی وجہ ان کا صحت یاب ہونا نہیں بلکہ موت کا شکار ہونا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG