رسائی کے لنکس

logo-print

بجلی کا بحران :کاروباری مراکز رات 8 بجے بند کرانے کا فیصلہ


ہفتہ کے سوا کاروباری مراکز آٹھ بجے بند کر دیئے جائیں گے۔ حکومتی دفاتر میں ہفتے میں پانچ دن کام ہو گا جس سے سات سو میگا واٹ بجلی کی بچت ہوگی۔

پاکستان میں جاری توانائی کے شدید بحران پر قابو پانے کے لئے پیر کو لاہور میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ’توانائی کانفرنس “ ہوئی ۔ کانفرنس میں بحران پر قابو پانے کے لئے چنداہم کا فیصلے کئے گئے ہیں جن میں ملک بھر کے تمام کاروباری مراکز رات آٹھ بجے کرنے کا اہم ترین فیصلہ بھی شامل ہے۔

کانفرنس میں وزیراعظم کے علاوہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیر پانی و بجلی اور وزیر خزانہ بھی شامل تھے۔ کانفرنس کے بعد وزیراعظم نے وزرائے اعلیٰ کے ہمراہ پریس کانفرنس کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے بحران کو ختم کرنے کے لئے ایک لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے جس کے مطابق تمام صوبوں میں یکساں لوڈ شیڈنگ ہوگی۔ موسم گرما اور سرما کے دوران دفتری اوقات کار میں تبدیلی کی جائے گی تاہم گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے نہیں کی جائیں گی۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں بل بورڈز اور سائن بورڈز کو بجلی کی فراہمی روک کر بچت کی جا سکتی ہے۔ ہفتہ کے سوا کاروباری مراکز آٹھ بجے بند کر دیئے جائیں گے۔ حکومتی دفاتر میں ہفتے میں پانچ دن کام ہو گا جس سے سات سو میگا واٹ بجلی کی بچت ہوگی۔

وزیرا عظم نے بتایا کہ کاروباری مراکز رات آٹھ بجے بند کرنے کی تجویزپر 2010ء میں بھی عمل درآمد کرایا گیا تھا ۔ اس اقدام سے یومیہ ڈھائی سو میگا واٹ بجلی کی بچت ہوگی۔ سرکاری دفاتر میں پانچ روز کام کیا جائے گاجس سے سات سو میگا واٹ بجلی کی بچت ہوگی۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ اسٹریٹ لائٹس کی تعداد میں کمی کی جائے گی جس میں تجویز ہے کہ ہر دو کھمبوں میں سے ایک پر بلب روشن نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بل بورڈز اور ہورڈنگز کو بجلی فراہم نہیں کی جائے گی۔

اس موقع پر پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کہا کہ پورے ملک میں لوڈ شیڈنگ کا یکسان نظام رائج کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔

XS
SM
MD
LG