رسائی کے لنکس

انگلش بورڈ کی ٹیسٹ میچ کو چار روزہ کرنے کی حمایت


انگلش کرکٹ بورڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ "ہم ٹیسٹ کرکٹ کو چار روز تک محدود کرنے کی تجویز کے یقینی طور پر حامی ہیں۔" (فائل فوٹو)

انگلینڈ کے کرکٹ بورڈ نے چار روزہ ٹیسٹ لازمی بنانے کی تجویز کی حمایت کر دی ہے۔ اس تجویز کا مقصد طویل ترین فارمیٹ یعنی پانچ روزہ ٹیسٹ کو مختصر کر کے چار روز تک محدود کرنا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی کرکٹ کمیٹی رواں برس ٹیسٹ کرکٹ کو موجودہ تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور اسے پانچ روز کے بجائے چار روز تک محدود کرنے پر مذاکرات کرے گی۔

محدود طرز کی کرکٹ کی مقبولیت اور ٹیسٹ کرکٹ میں عدم دلچسپی کو دیکھتے ہوئے کرکٹ کے حلقوں میں چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں کہ ٹیسٹ کرکٹ کی بقا کے لیے اس کے دورانیے میں تبدیلی ناگزیر ہے۔

'رائٹرز' نے روزنامہ 'ٹیلی گراف لندن' کے حوالے سے لکھا ہے کہ انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ طویل ترین دورانیے کی کرکٹ کو مختصر کرنے سے کھلاڑیوں پر پڑنے والے بوجھ میں کمی آسکے گی۔

ترجمان کے بقول، "ہم ٹیسٹ کرکٹ کو چار روز تک محدود کرنے کی تجویز کے یقینی طور پر حامی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کھلاڑیوں، شائقین اور دیگر افراد کے لیے جذباتی موضوع ہے۔ اس تجویز سے ٹیسٹ کرکٹ کے ورثے کو ایک طرح کے چیلنج کا سامنا ہے۔"

انگلش کرکٹ بورڈ نے مزید تفصیلات کے لیے 'رائٹرز' کی جانب سے بھیجی گئی ای میل کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

'رائٹرز' کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ ایشز کا حریف آسٹریلیا پہلے ہی اس تجویز کا حامی ہے۔ کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو کیون رابرٹس نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ بورڈ چار روزہ ٹیسٹ کھیلنے پر سنجیدگی سے غور کرے گا۔

آئی سی سی کے دوسرے بگ تھری ممبر یعنی بھارتی کرکٹ بورڈ نے ابھی تک اپنا مؤقف ظاہر نہیں کیا۔ بورڈ کے صدر سارو گنگولی نے کہا ہے کہ وہ رائے دینے سے پہلے اس تجویز کا بغور جائزہ لینا چاہتے ہیں۔

چار روزہ میچوں کو آئی سی سی کی جانب سے 2017 میں اس وقت گرین سگنل ملا تھا جب جنوبی افریقہ نے زمبابوے کے خلاف ایک میچ کی میزبانی کی تھی جبکہ انگلینڈ نے جولائی 2019 میں آئرلینڈ کے خلاف ایک میچ کھیلا تھا۔

آزمائشی میچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا وقت سے پہلے ختم ہونے کے سبب، منتظمین مختصر میچوں کے شیڈول کو زیادہ منافع بخش بنانا چاہتے ہیں، ساتھ ہی وہ اس سے ایک میچ سے دوسرے میچ کی درمیانی مدت کو کم کرنے کے بھی خواہاں ہیں۔

آسٹریلیا کے بیٹسمین ٹریوس ہیڈ نے سڈنی میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا ہے کہ " مجھے لگتا ہے کہ پانچ روزہ ٹیسٹ میں آپ اچھی طرح اور کھل کر کھیل سکتے ہیں، اس سے کھیل میں دلچسپی برقرار رہتی ہے لہذا میں تو یہی کہوں گا کہ ٹیسٹ پانچ روزہ ہی ہونا چاہیے۔"

ادھر آسٹریلیا کے کپتان ٹم پین بھی اس خیال کے حامی ہیں کہ ٹیسٹ کرکٹ پانچ روز ہی ہونا چاہیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG