رسائی کے لنکس

logo-print

آسٹریلیا انگلینڈ سے پہلی بار 0-5 سے کلین سوئپ


یہ پہلا موقع ہے جب انگلینڈ نے روایتی حریف آسٹریلیا کو پانچ میچوں کی سیریز میں کلین سوئپ کیا ہے۔ اس سے پہلے وہ 1997ء میں تین۔صفر جبکہ 2012ء میں چار۔صفر سے کلین سوئپ کرچکی ہے۔

جوز بٹلر کی ناقابلِ شکست سینچری کی بدولت انگلینڈ نے آسٹریلیا کو آخری ون ڈے میں ایک وکٹ سے شکست دے کر پہلی مرتبہ پانچ میچوں کی سیریز میں کلین سوئپ کردیا ہے۔

مانچسٹر میں کھیلے گئے سیریز کے آخری ون ڈے میں آسٹریلیا کی ٹیم ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 34 اعشاریہ 4 اوورز میں 205 رنز بناسکی۔

ساٹھ رنز تک آسٹریلین ٹیم کا کوئی کھلاڑی آؤٹ نہیں ہوا تھا۔ لیکن اوپنر فنچ کے آؤٹ ہونے کے بعد وکٹیں گرنے کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ 100 رنز پر آدھی ٹیم پویلین لوٹ گئی۔

فنچ 22، اسٹونیس صفر، ٹریویس ہیڈ 56، شان مارش 8 اور ٹم پینے صرف ایک رن بناکر آؤٹ ہوئے۔

ایلکس کیرے اور ڈی آرکی شارٹ نے چھٹی وکٹ کی شراکت میں 59 رنز بناکر ٹیم کو کسی حد تک مشکل سے نکالا۔ لیکن کیرے 44 رنز بناکر ہمت ہار گئے۔

نئے آنے والے بیٹسمین صرف دو گیندوں کا سامنا کرسکے اور بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔

مشکلات میں گھری ٹیم کو شارٹ نے آخری وقت تک سہارا دیا اور 47 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ لیکن کوئی اور کھلاڑی آخری اوور تک اُن کا ساتھ نہ دے سکا اور آسٹریلیا کی ٹیم 35 ویں اوور میں 205 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

انگلینڈ کی جانب سے معین علی چار وکٹیں لے کر سب سے کامیاب بالر رہے۔ کرین نے دو جبکہ پلنکیٹ اور عادل راشد نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

ہدف کے تعاقب میں انگلش ٹیم کی اننگز کا آغاز بہت ہی برا رہا۔ پہلے ہی اوور میں جیسن رائے کے آؤٹ ہونے کے بعد ٹیم بالکل نہ سنبھل سکی اور صرف 50 رنز پر پانچ وکٹیں کھو بیٹھی۔ صرف بیرسٹو 12 اور ہیلز 20 ہی ڈبل فیگر میں اسکور کرسکے۔

جوز بٹلر مشکل صورتحال میں بیٹنگ کے لیے میدان میں اُترے اور ایک اینڈ سے وکٹیں گرنے کے سلسلے کو بریک لگایا۔ لیکن دوسری جانب وقفے وقفے سے وکٹیں گرتی گئیں۔

ایک موقع پر ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ یہ میچ انگلش ٹیم کے ہاتھوں سے نکل گیا ہے۔ لیکن بٹلر اور عادل راشد نے نویں وکٹ کی شراکت میں 81 رنز بناکر میچ کا نقشہ ہی تبدیل کردیا۔

گوکہ عادل راشد نے صرف 20 رنز بنائے لیکن اس دوران بٹلر نے تیزی کے ساتھ اسکور میں اضافہ کیا اور 122 گیندوں پر 110 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل کر ہار کو جیت میں بدل دیا اور انگلینڈ نے میچ ایک وکٹ سے اپنے نام کرکے کلین سوئپ کردیا۔

یہ پہلا موقع ہے جب انگلینڈ نے روایتی حریف آسٹریلیا کو پانچ میچوں کی سیریز میں کلین سوئپ کیا ہے۔ اس سے پہلے وہ 1997ء میں تین۔صفر جبکہ 2012ء میں چار۔صفر سے کلین سوئپ کرچکی ہے۔

فتح گر جوز بٹلر کو یادگار اننگز پر مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔

انگلینڈ کی طرف سے اسٹین لیک اور رچرڈسن نے تین، تین، اسٹونیس نے دو اور ایشٹن اگر نے ایک وکٹ حاصل کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG