رسائی کے لنکس

جنوبی وزیرستان: بچوں کے اسکول داخلے کی خصوصی مہم تیار

  • شمیم شاہد

شدت پسندوں اسکولوں کی عمارتوں کو بھی تباہ کرتے رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

قبائلی علاقوں میں حقوق کے لیے ایک سرگرم کارکن زر علی آفریدی کا کہنا تھا کہ تعمیر نو کے کام کو جلد از جلد مکمل کیا جانا چاہیے تاکہ واپس آنے والے لوگ ان علاقوں میں معمول کی زندگی گزار سکیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنے کی ایک خصوصی مہم تیار کی گئی ہے جس کا مقصد علاقے کے زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہے۔

قبائلی علاقوں کے لیے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ عہدیدار خلیل الرحمن داوڑ کی زیرصدارت ہونے والے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 18 اپریل سے 31 مئی تک اس مہم میں پانچ سال سے بڑی عمر کے بچوں کو اسکول داخلے کے لیے والدین سے رجوع کیا جائے گا۔

انھوں نے تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ طلبا و طالبات کے لیے تمام تعلیمی سہولتوں کو یقینی بنانے کے ساتھ اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بھی متعلقہ حکام سے رابطہ کریں۔

شدت پسندی سے متاثرہ جنوبی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے اکثر خاندان اپنے آبائی علاقوں کو واپس تو لوٹ آئے ہیں لیکن مختلف علاقوں میں ابھی تعمیرنو کا کام مکمل نہیں ہوا جس کی وجہ سے بہت سے خاندان دوبارہ سے صوبہ خیبر پختونخواہ اور دیگر علاقوں کی طرف عارضی طور پر نقل مکانی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

جنوبی وزیرستان کی پولیٹیکل انتظامیہ کے عہدیدار بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ اکثر علاقوں میں تباہ شدہ گھروں کی تعمیر ابھی تک نہیں ہو سکی ہے جس کی وجہ سے واپس آنے والے لوگ اپنے خاندان کے چند افراد کو یہاں تعمیری سرگرمیوں کے لیے چھوڑ کر عارضی طور پر کہیں اور منتقل ہوئے ہیں۔

قبائلی علاقوں میں انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن زر علی آفریدی بچوں کی داخلہ مہم کو خوش آئند تو قرار دیتے ہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ تعمیر نو کے کام کو جلد از جلد مکمل کرنے کے اقدام کیے جا سکیں تاکہ یہاں معمولات زندگی کے ساتھ ساتھ تعلیمی سرگرمی بھی بلا تعطل جاری رکھ سکیں۔

"ٹھیک ہے کہ حکومت نے داخلہ مہم چلائی ہے لیکن ایسے میں جب وہاں گھر نہیں ہیں، عمارتیں نہیں، اسکول نہیں ہیں تو اس کے بغیر یہ صرف ایک خواب ہی ہوگا۔"

شدت پسندوں کی طرف سے قبائلی علاقوں میں تعلیمی اداروں کی عمارتوں کو بھی بارودی مواد سے تباہ کیا جاتا رہا ہے لیکن اکثر تباہ ہونے والے اسکولوں کی عمارتیں دوبارہ تعمیر کی جا چکی ہیں۔

XS
SM
MD
LG