رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی: تین ماہ کے لیے ہنگامی حالت کا نفاذ


گزشتہ ہفتے ملک میں ناکام بغاوت کے بعد ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے بدھ کے روز ملک میں تین ماہ کے لیے ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔

اردوان نے کہا ہے کہ ہنگامی حالت کے نفاذ کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے تاکہ بغاوت کی کوشش میں ملوث تمام ذمہ داروں کو پکڑا جا سکے۔

اُنھوں نے یہ بات اپنی کابینہ کے اجلاس کے بعد کہی۔

ترک لیڈر نے کہا ہے کہ ہنگامی حالت کے نفاذ کا مطلب یہ نہیں کہ بنیادی آزادی کو صلب کیا جائے بلکہ اس کے برعکس اس کا مقصد ترکی کی جمہوریت کے خلاف خطرات سے نمٹنا ہے۔

اُن کے الفاظ میں ’’کمانڈر اِن چیف کی حیثیت سے میری توجہ اس طرف رہے گی تاکہ مسلح افواج کے اندر تمام وائرس کا صفایا کیا جا سکے‘‘۔

سرکاری ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ حکام 626 اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا اقدام کر رہے ہیں جو ناکام بغاوت کے بعد ’کریک ڈاؤن‘ کا تازہ اقدام ہے۔

اِن اسکولوں کا تعلق ملک بدر عالم دین فتح اللہ گولن سے ہے، جنھوں نے اپنی نظریات کے فروغ کے لیے ملک بھر میں اسکولوں کی شاخیں قائم کر رکھی ہیں۔

ساتھ ہی ترکی نے ماہرین تعلیم کے ملک سے باہر جانے پر پابندی لگا دی ہے اور بیرون ملک سفر کرنے والوں سے کہا ہے کہ وہ ملک واپس آ جائیں۔

XS
SM
MD
LG