رسائی کے لنکس

امریکہ کرد ملیشیا کو شامی سرحدی علاقے سے نکالنے کا وعدہ پورا نہیں کر رہا: ترکی


ترک صدر رجب طیب اردوان نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ امریکہ کرد ملیشیا کو شامی سرحد کے علاقے سے نکالنے کا عہد پورا نہیں کر رہا، اور یہ کہ آئندہ ہفتے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران وہ اس معاملے کو اٹھائیں گے۔

ایک ماہ قبل ترکی نے کرد جنگجوؤں ’وائی پی جی‘ کے خلاف شامی باغیوں سے نمٹنے کے لیے سرحد پار فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ 120 کلومیٹر (75 میل) رقبے پر کنٹرول کے حصول کے بعد ترکی نے وائی پی جی کو علاقے سے باہر رکھنے کے لیے امریکہ سے سمجھوتا طے کیا۔

13 نومبر کو واشنگٹن میں ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے دوران اردوان اس سمجھوتے پر عمل درآمد سے متعلق بات چیت کریں گے۔ ٹیلی فون پر گفتگو کے بعد اردوان نے اس بات کی تصدیق کی کہ دورہ برقرار ہے۔

انھوں نے ایک اخباری کانفرنس میں بتایا کہ ’’ہم سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ وائی پی جی 120 گھنٹوں کے اندر ہتھیار ڈال دے گی۔ تاہم یہ وعدہ پورا نہیں ہوا‘‘۔ وہ گزشتہ ماہ ہونے والے سمجھوتے کی ڈیڈلائن کا حوالہ دے رہے تھے۔

اس سے قبل، ترک حکام نے کہا کہ ایک صدی قبل آرمینیائی لوگوں کی ہلاکتوں کو قتل عام قرار دینے اور ترکی کے خلاف مجوزہ تعزیرات کی حمایت سے متعلق امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد پر احتجاج کرتے ہوئے اردوان امریکہ کا دورہ منسوخ کر سکتے ہیں۔

امریکہ کے ساتھ سمجھوتے کے بعد ترکی نے روس کے ساتھ معاہدہ کیا جس کے تحت وائی پی جی کو ترکی کے ساتھ شمال مشرقی شامی سرحد کے ساتھ 30 کلومیٹر کے رقبے سے باہر نکال دیا جائے گا۔

تاہم، اردوان نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ بھی پورا نہیں ہوا، اور وائی پی جی کے جنگجو ابھی تک سرحدی پٹی میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر وہ بہت جلد پوٹن سے بات چیت کریں گے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بدھ کو شام گئے کہا ہے کہ شامی سرحد کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع راس العین قصبے میں لڑائی جاری ہے۔ اس معاملے پر تنازع ہے کہ آیا امریکہ اور روس سے سمجھوتوں میں یہ علاقہ شامل ہے یا نہیں۔

ادھر، وائس آف امریکہ کی ترک سروس سے بات کرتے ہوئے ترکی کے خلاف تعزیرات سے متعلق سوال پر میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر، وان ہولن نے کہا ہے کہ ’’جب تک کہ اردوان کی حکومت داعش کے خلاف لڑائی میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز جیسے ہمارے اتحادیوں پر حملے جاری رکھتی ہے، ہم اقتصادی تعزیرات کے معاملے کو آگے بڑھائیں گے‘‘۔ ان سے یہ سوال ’ڈیفنس ون آؤٹ لک 2020ء‘ کے اجلاس میں شرکت کے دوران کیا گیا۔

امریکی سینیٹر نے کہا ہے کہ ’’میرے خیال میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک واضح پیغام بھیجا جائے کہ ہمارے لیے یہ بات قابل قبول نہیں کیونکہ اس عمل سے دولت اسلامیہ میں نئی جان پڑ سکتی ہے‘‘۔

وان ہولن نے کہا کہ ’’ہم چاہتے ہیں کہ ترکی کی حکومت وہ کام بند کرے جو وہ کر رہی ہے۔ لیکن یہ ایسا معاملہ ہے جس پر ہمیں سخت پیغام بھیجنا پڑے گا‘‘۔

XS
SM
MD
LG