رسائی کے لنکس

logo-print

جنسی غلامی سے فرار میں کامیاب یزیدی خاتون خیر سگالی سفیر مقرر


اقوام متحدہ کی طرف سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ 23 سالہ نادیہ مراد باسی طٰہ کو انسانی اسمگلنگ کے متاثرین کے وقار کے لیے اقوام متحدہ کے دفتر (یو این او ڈی سی) کا خیر سگالی سفیر مقرر کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ نے داعش کی جنسی غلامی سے بھاگ نکلنے والی یزیدی خاتون نادیہ مراد کو منشیات اور جرائم پر اقوام متحدہ کے دفتر کا خیر سگالی سفیر مقرر کیا ہے۔

امن کے عالمی دن کے موقع پر 16 ستمبر کو اقوام متحدہ کی عمارت میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد ہوا جہاں نادیہ مراد کی تقرری کا اعلان کیا گیا۔

اقوام متحدہ کی طرف سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ 23 سالہ نادیہ مراد باسی طٰہ کو انسانی اسمگلنگ کے متاثرین کے وقار کے لیے اقوام متحدہ کے دفتر (یو این او ڈی سی) کا خیر سگالی سفیر مقرر کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کی تقرری کے ساتھ، پہلی بار مظالم سے زندہ بچ جانے والے کو یہ اعزاز عطا کیا گیا ہے۔

نادیہ مراد داعش کے ہاتھوں یرغمال بنائےجانے اور زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین میں سے ہیں۔ وہ تین ماہ تک شدت پسند گروپ کی اسیری میں رہنے کے بعد ان کے چنگل سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئی تھیں۔

نادیہ مراد کو نوبل امن انعام کے لیے بھی نامزد کیا گیا ہے۔

انھوں نے گزشتہ دسمبر میں سلامتی کونسل کے ایک خصوصی اجلاس میں انسانی اسمگلنگ پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ یزیدیوں پر داعش کے حملے کو نسل کشی کے طور پر تسلیم کیا جائے۔

نادیہ نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں داعش کے جنگجوؤں کے ہاتھوں کئے جانے والے ظلم و ستم کے ہولناک پہلوؤں سے پردہ اٹھایا تھا اور عالمی برادری سے یزیدی خواتین متاثرین کو انصاف دلانے کا مطالبہ کیا تھا۔

انھیں 2014ء میں عراق میں ان کے آبائی گاؤں سے اغوا کیا گیا اور داعش کے زیر تسلط علاقے موصل لے جایا گیا جہاں انھیں جنسی غلام بنا کر رکھا گیا اور مختلف اوقات میں خریدا اور فروخت کیا گیا۔

اقوام متحدہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی رسمی خیر سگالی سفیر کی حیثیت سے نادیہ کی ذمہ داریوں میں وکالت کے اقدامات پر توجہ مرکوز رکھنا اور لاکھوں انسانی اسمگلنگ کے متاثرین خاص طور پر مہاجرین خواتین اور لڑکیوں کی حالت زار پر شعور اجاگر کرنا ہے۔

ان کی تقرری پر تبصرہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ ''نادیہ ہولناک جرائم سے زندہ بچ نکلی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''میں نے جب ان کی کہانی سنی تو میں رو پڑا لیکن، میں صرف دکھ سے نہیں رویا تھا میری آنکھوں میں آنسو اس لیے بھی تھے کہ نادیہ میں اتنی طاقت، ہمت اور وقار ہے''۔

آئندہ ہفتے 19 ستمبر کو تارکین وطن اور مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس کی افتتاحی تقریب میں نادیہ مراد کو اس معاملے پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بلایا گیا ہے۔

منشیات اور جرائم پر اقوام متحدہ کا دفتر (یو این او ڈی سی) جنسی غلامی، جبری مشقت اور انسانی عضو نکالنے کے مقصد کے لیے اسمگلنگ سمیت انسانی اسمگلنگ کی تمام شکلوں سے لڑ رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG