رسائی کے لنکس

logo-print

یورپی یونین کی جانب سےقتل کے واقعے میں جعلی پاسپورٹوں کےاستعمال کی مذمّت


فرانس کے صدر نکولا سارکوزی نے بھی دوبئى میں اُس قتل کی مذمّت کی ہے

یورپی یونین نے ایک چوٹی کے عسکریت پسند فلسطینی کے قاتلوں کی جانب سے یورپی ملکوں کے جعلی پاسپورٹوں کے استعمال کی مذمّت کی ہے۔

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ پچھلے مہینے دوبئى میں حماس کے کمانڈر محمود المبحوح کا قتل ایک ”انتہائى پریشان کُن“ واقعہ ہے۔

بیان میں اسرائیل کا نام نہیں لیا گیا، جس پر متحدہ عرب امارات نے الزام عائد کیا ہے کہ مبحوح کے قتل میں اُس کا ہاتھ تھا۔لیکن یورپی یونین نے کہا ہے کہ بیان کا مقصد اسرائیل کو سرزنش کرنا ہے اور اسے پیر کے روز ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا جب اسرائیلی وزیرِ خارجہ ایوِگدور لِبر مین بروسلز میں اپنے یورپی ہم منصبوں کے ساتھ ایک میٹنگ کررہے ہیں۔

اس میٹنگ میں سپین کے وزیرِ خارجہ میگوئیل اینجل مورا تینوس نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ یورپی ملکوں کے پاسپورٹوں کو کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

لِبر مین کا کہنا ہے کہ یہ باور کرنے کوئى وجہ نہیں کہ اُس قتل میں اسرائیل ملوّث تھا۔

11 مشتبہ قاتلوں کے پاس برطانیہ، آئر لینڈ، جرمنی اور فرانس کے پاسپورٹ تھے۔

فرانس کے صدر نکولا سارکوزی نے بھی دوبئى میں اُس قتل کی مذمّت کی ہے۔ انہوں اسرائیل پر الزام نہیں لگایا ۔ لیکن انہوں نے کہا ہے کہ اُن کی وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی سفیر کو طلب کرکےاُس سے ایک قاتل کے ہاتھوں میں فرانس کے جعلی پاسپورٹ کے بارے مں سوال کیے ہیں۔

مسٹر سارکوزی نے پیر کے روز پیرس میں فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ مذاکرات کے بعد یہ بات کہی ہے۔

دوبئى کی پولیس نےاسرائیلی ایجنسی موساد پر الزام عائد کیا ہے کہ اُس نے حماس کے کمانڈر محمود المبحوح کو قتل کرنے کے لیے اپنے ایجنٹوں کو متحدہ عرب امارات بھیجا تھا۔پیر کے روز یورپی یونین کے بیان میں اُس چھان بین کے ساتھ مکمل تعاون کا مطالبہ کیا گیا ہے ، جو اس وقت دوبئى میں حکام کررہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG