رسائی کے لنکس

بریگزٹ کے دوسرے مرحلے پر اتفاق، امیگریشن پر اختلاف برقرار


یورپی یونین کے راہنماوں کے برسلز میں ہونے والے اجلاس میں اتفاق کیا ہے کہ برطانیہ نے یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے خاطر خواہ اقدام کیا ہیں اور اب اس عملے لیے دوسرے مرحلے کے مذاکرات شروع ہوں گے۔ لیکن اجلاس میں امیگریشن کے معاملات کے بارے میں کسی معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے۔

یورپیئن کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے اس دو روزہ اجلاس میں امیگریشن کو ایجنڈے میں ترجیحی بنیادوں پر رکھا تھا۔ جمعہ کو اجلاس کے اختتام پر ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے راہنماوں کے لیے پناہ گزینوں کو اپنے ہاں آباد کرنے کی نئی پالیسی پر سمجھوتے میں بہت مشکلات پیش آئیں گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ یورپی یونین راہنماوں کے درمیان امیگریشن کے معاملے پر طویل اور گرما گرم بحث ہوتی رہی۔

ہالینڈ کے وزیر اعظم مارک رُٹ نے مذاکرات کے بعد کہا کہ "یہ بحث بہت شدید تھی کیونکہ معاملے پر اختلافات اب بھی بہت زیادہ ہیں۔"

ٹسک نے راہنماوں سے مطالبہ کیا کہ وہ آئندہ سال جون تک اس معاملے کے کسی حل پر متفق ہو جائیں۔

یورپی ممالک امیگریشن معاملات پر منقسم چلے آ رہے ہیں جن میں سب سے زیادہ اختلاف پناہ گزینوں کو آباد کرنے سے متعلق کوٹے کا معاملہ ہے۔

جنوبی ممالک بشمول اٹلی اور یونان، جہاں پناہ کے متلاشیوں کی ایک بڑی تعداد رخ کرتی ہے، یہ چاہتے ہیں کہ یورپی یونین کے رکن ممالک بھی ان افراد کو اپنے ہاں جگہ دیں۔

ہنگری، پولینڈ اور جمہوریہ چیک سمیت مشرقی یورپی ملک اس سے اختلاف کر رہے ہیں۔

بریگزٹ کا معاملے پر یورپی ممالک نے اتفاق کیا کہ برطانیہ کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور شروع کیا جائے گا۔ گزشتہ ہفتے برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کے دورہ برسلز کے موقع پر پہلے مرحلے کے معاہدے پر کامیابی کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ بات چیت کا دوسرا مرحلے پر جلد اتفاق ہو جائے گا۔

مے کا کہنا تھا کہ "اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے، لیکن ہم بریگزٹ سے متعلق اس سمت میں رواں ہیں جہاں ہم برطانیہ کو خوشحال، مضبوط اور محفوظ بنائیں گے۔"

بریگزٹ کے اس دوسرے مرحلے میں یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے بعد یونین کے ساتھ لندن کے تعلقات کی سمت پر بات چیت کی جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG