رسائی کے لنکس

logo-print

بعض ممالک بیل آوٹ معاہدہ نہیں چاہتے: یونان کا الزام


یونان کی حکمران جماعت کے رکن نے جرمنی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بیل آؤٹ کے لیے سخت مطالبات کر کے اس کی توہین کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یونان کے مالی بحران سے نکلنے کے لیے پیش کردہ تجاویز پر غور کے لیے برسلز میں یورپی یونین کے 28 رکن ممالک کا اتوار کو ہونے والا اجلاس منسوخ ہو گیا ہے اور اب صرف 19 رکنی یوروزون کے اعلیٰ عہدیداروں کی کانفرنس ہو رہی ہے۔

یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے اتوار کو ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ کانفرنس اس وقت تک جاری رہے گی جب تک "ہم یونان کے بارے میں بات چیت مکمل نہیں کر لیتے۔"

ادھر یونان نے جرمنی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بیل آؤٹ کے لیے سخت مطالبات کر کے اس کی توہین کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یورپی پارلیمنٹ کے نائب صدر اور یونان کی حکمران جماعت کے رکن دمتریوس پاپادیمولس کا کہنا تھا کہ "یہاں جو کھیل کھیلا جا رہا ہے وہ یونان اور اس کے عوام کو ذلیل کرنے کی کوشش ہے یا پھر سیپراس کی حکومت کو ختم کرنے کی۔"

جرمنی کی وزارت خارجہ نے تجویز دی ہے کہ یونان یا تو سخت اقتصادی اقدام کرے یا پھر پانچ سال کے لیے یوروزون سے "علیحدہ" رہے۔

یونان کی طرف سے باضابطہ طور پر جرمنی کی تجویز پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا لیکن برسلز میں موجود یونانی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ نئے مطالبات یہ ثابت کرتے ہیں کہ برلن کوئی معاہدہ نہیں کرنا چاہتا۔

ایک حکومتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ " یہ واضح ہے کہ بعض ممالک بعض ایسی وجوہات، جن کا اصلاحاتی پروگرام سے سراسر کوئی تعلق نہیں، کی بنا معاہدہ کرنا نہیں چاہتے۔"

یونان آئندہ تین سال تک اپنے قرضوں کی اقساط ادا کرنے کے لیے قرض خواہوں سے ساڑھے 53 ارب یورو مانگ رہا ہے لیکن اسے بڑے پیمانے پر اصلاحات کرنے کا کہا جا رہا ہے۔

اٹلی کے وزیر خزانہ پیئر کارلو پاڈوان کا کہنا ہے کہ یونان کے یورپی قرض خواہ اس بارے میں پراعتماد نہیں کہ یونان کی حکومت اقتصادی شعبے میں درکار اصلاحات کرے گا۔

ان کے بقول اسی بنا پر فوری طور پر کوئی معاہدہ ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

XS
SM
MD
LG