رسائی کے لنکس

logo-print

یونانی پارلیمان نے اقتصادی اصلاحات کے منصوبے کی منظوری دے دی


نئے مجوزہ منصوبے میں پنشنوں میں مزید کٹوتیاں اور ٹیکسوں میں اضافہ شامل ہے، جن کا مطالبہ یورپی یونین کے وزرائے خزانہ یونان کرتے رہے ہیں، اور جنہیں یونانی عوام نے گزشتہ اتوار کے ریفرینڈم میں مسترد کر دیا تھا۔

یونان کی پارلیمان نے اقتصادی اصلاحات کے نئے حکومتی منصوے کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد یورپی یونین سے ایک اور اشد ضروری بیل آؤٹ قرض حاصل کرنا ہے۔

قانون ساز وزیرِ اعظم الیکسس سیپراس کی ذاتی اپیل سننے کے بعد جمعہ کی رات ایک اجلاس کے لیے اکٹھے ہوئے جو نصف شب کے بعد بھی جاری رہا۔

انہوں نے پارلیمان سے کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ یونان کے لیے ایک مشکل جنگ کا آخری مرحلہ ثابت ہو گا۔ انہوں نے یورپی یونین کے ساتھ گزشتہ کچھ ماہ سے جاری مشکل مذاکرات کو ایک جنگ سے تشبیہہ دی، جن میں ان کی حکومت یونانی عوام کے حقوق کے لیے لڑتی رہی ہے۔

سیپراس نے کہا کہ ’’ہم کامیاب ہوں گے۔ ہم ناصرف یورپ کا حصہ رہیں گے بلکہ ہم وقار اور فخر کے ساتھ برابر کے شراکت کار کی حیثیت سے رہیں گے، اور یورپ میں اپنے حقوق کے حصول اور دوسری قوموں کے لیے راستے کھولنے کے لیے کام کرتے رہیں گے۔‘‘

نئے مجوزہ منصوبے میں پنشنوں میں مزید کٹوتیاں اور ٹیکسوں میں اضافہ شامل ہے، جن کا مطالبہ یورپی یونین کے وزرائے خزانہ یونان سے کرتے رہے ہیں، اور جنہیں یونانی عوام نے گزشتہ اتوار کے ریفرنڈم میں مسترد کر دیا تھا۔

اس منصوبے میں یونان کی طرف سے عالمی مالیاتی فنڈ کے قرضوں کی ادائیگیوں کی تشکیل نو کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

یونان نے یورپی یونین کو آئندہ تین سال کے دوران 60 ارب ڈالر قرض کی درخواست دی ہے۔

اتوار کو یورپی یونین کے تمام 28 رہنما ایک ہنگامی سربراہ اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا یونانی حکومت کے مجوزہ اقتصادی منصوبے کو منظور کریں یا نہیں۔ کچھ یورپی رہنماؤں کا خیال ہے کہ یونان کے پاس ان کے مطالبات پورے کرنے کا یہ آخری موقع ہے۔

یونان اور یورپی یونین کے درمیان معاہدے میں ناکامی سے یونان یوروزون سے نکل سکتا ہے۔ یوروزون کے 19 یورپی ممالک یورو کو ایک مشترکہ کرنسی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے جمعہ کو کہا تھا کہ یونان کا نیا منصوبہ ’’سنجیدہ اور قابل بھروسہ‘‘ ہے اور ایتھنز کے یوروزون میں شامل رہنے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

یونان کی معاشی مشکلات کا آغاز 2009ء میں اس وقت ہوا جب یہ انکشاف کیا گیا کہ سابق کنزروٹیو حکومت نے ملک کے قرضوں کی رقم اصل سے بہت کم بتائی تھی۔ یہ انکشافات اس وقت سامنے آئے جب عالمی کساد بازاری میں اضافہ ہونا شروع ہوا۔

XS
SM
MD
LG