رسائی کے لنکس

logo-print

فیڈریکا کا دورہٴ ایران، جوہری سمجھوتے پر عمل درآمد کا عزم


یورپی یونین کی پالیسی سربراہ نے کہا ہےکہ اُن کے دورے کا مقصد ’ایران اور بین الاقوامی برادری کے مابین ہونے والے جوہری معاہدے پر بہتر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے‘، جس سے، بقول اُن کے، ’بہتر تعلقات کی جانب راہ نکلے گی۔‘

ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے پر عمل درآمد شروع کرنے کے لیے، یورپی یونین کی امور خارجہ کی سربراہ، فیڈریکا مغیرینی دورہ ایران پر منگل کو تہران پہنچیں۔

وائس آف امریکہ کے نمائندے، ایڈورڈ یرانیان نے قاہرہ سےاپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایرانی سرکاری تحویل میں کام کرنے والے ٹیلی ویژن نے دورے کی اہمیت کو اجاگر کیا، جس میں وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے ہمراہ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ، مغیرینی کی اخباری کانفرنس نشر کی۔

مغیرینی نے کہا کہ اُن کے دورے کا مقصد ایران اور بین الاقوامی برادری کے مابین ہونے والے جوہری معاہدے پر بہتر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے، جس سے، بقول اُن کے، ’بہتر تعلقات کی جانب راہ نکلے گی‘۔

فرڈریکا مغیرینی کے الفاظ میں، ’سمجھوتے پر مکمل عمل درآمد ہی سب سے بہتر طریقہ کار ہوگا جس کے ذریعے سے یورپ کے ساتھ تجارتی تعلقات استوار ہوں گے۔۔۔ اس عمل کو آگے بڑھانے میں میرا ذاتی کردار یہ ہے کہ سارے فریقین اس جانب مکمل توجہ دیں، کہ معاملات واقعی اور تواتر سے آگے بڑھیں‘۔
یورپی یونین کی بیرون ملک پالیسی سربراہ نے زور دے کر کہا کہ خطے کے سارے ملکوں کے لیے اُن کا یہی پیغام ہوگا کہ یہ جوہری سمجھوتا بہت ہی اچھا ہے، اور اسی سے اعتماد سازی، بھروسہ اور تعاون کو فروغ ملے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ ظریف نے کہا ہے کہ ’ایران ہمیشہ سمجھوتوں کی پاسداری کرتا رہا ہےاور اس بار بھی ایسا ہی کرے گا‘۔ تاہم، اُنھوں نے کہا کہ ’عالمی برادری، خاص طور پر امریکہ کو عشروں کی بداعتمادی کے تاثر کو زائل کرنے کے لیے کوشش کرنی ہوگی‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ایران کو سمجھوتے پر عمل درآمد میں دلچسپی ہے اور اس بات پر زور دیا کہ مغربی ملک اور امریکہ کو بداعتمادی کو دور کرنے کی کوششیں کرنی ہوں گی، جس سے ہی نیا باب کھل سکتا ہے۔

پیر کو ریاض میں، مغیرینی نے سعودی وزیر خارجہ عادل جبیر سے ملاقات کی۔ اس خطے کے دورے کا یہ اُن کا پہلا قیام تھا۔

جبیر نے خطے میں ’ایران کی توسیع پسندانہ‘ انداز کی شکایت کی۔

ایرانی وزیر خارجہ ظریف نے متعدد عرب ملکوں کا دورہ کرچکے ہیں، جن میں کویت، عراق اور قطر شامل ہیں، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ایران علاقائی تعلقات کے ضمن میں ایک نئے باب کھولنے کا متمنی ہے۔

XS
SM
MD
LG