رسائی کے لنکس

آسیہ بی بی یورپی یونین کے سخاروف ایوارڈ کے لیے نامزد


آسیہ بی بی کو پاکستان کی ایک عدالت نے توہینِ مذہب کے جرم میں 2010ء میں موت کی سزا سنائی تھی۔

یورپی پارلیمنٹ کے قانون سازوں نے سخاروف انعام برائے آزادی اظہاری رائے کے لیے اپنی نامزدگیاں جمع کرادی ہیں اور ان نامزدگیوں میں توہینِ مذہب کے جرم پر پاکستان میں سزائے موت پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی بھی شامل ہیں۔

سخاروف انعامات کا یہ سلسلہ یورپی پارلیمان نے شروع کیا تھا اور اس انعام کا نام روسی سائنس دان آندرے سخاروف کے نام پر رکھا گیا ہے۔

واضح رہے کہ آسیہ بی بی کو پاکستان کی ایک عدالت نے توہینِ مذہب کے جرم میں 2010ء میں موت کی سزا سنائی تھی۔

اُنھوں نے اپنی اس سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے، جس کی سماعت غیر معینہ وقت تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

آسیہ بی بی کو 2009ء میں پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کے ایک گاؤں میں مسلمان دیہاتی خواتین کے ساتھ بحث و تکرار کے دوران اسلام اور پیغمبرِ اسلام کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے کے الزام میں 2010ء میں ایک ذیلی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی جسے بعد میں عدالت عالیہ نے بھی برقرار رکھا تھا۔

پانچ بچوں کی ماں آسیہ بی بی اس الزام کو مسترد کرتی ہیں۔

مقتول گورنر سلمان تاثیر نے آسیہ بی بی سے جیل میں ملاقات کی تھی
مقتول گورنر سلمان تاثیر نے آسیہ بی بی سے جیل میں ملاقات کی تھی

عدالت سے سزا پانے کے بعد آسیہ بی بی کا معاملہ اس وقت بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا تھا جب پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر نے اس مسیحی خاتون سے جیل میں ملاقات کی تھی اور ایک بیان میں توہینِ مذہب کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اس میں ترمیم کی تجویز دی تھی۔

سلمان تاثیر کے اس بیان پر بعض مذہبی حلقوں کی طرف سے سخت تنقید کی گئی تھی اور جنوری 2011ء میں ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار ممتاز قادری نے انھیں اسلام آباد میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔

آسیہ بی بی اس سال کے سخاروف ایوارڈ کے لیے نامزد چھ شخصیات میں سے ایک ہیں۔

اس سے قبل 2013ء میں یہ ایوارڈ نوبیل امن انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی کو دیا گیا تھا۔

ملالہ یوسفزئی 2013 میں سخاروف ایوارڈ وصول کرتے ہوئے
ملالہ یوسفزئی 2013 میں سخاروف ایوارڈ وصول کرتے ہوئے

یورپی پارلیمنٹ کی خارجہ اُمور سے متعلق کمیٹی کا 10 اکتوبر کو ایک اجلاس ہونا ہے جس میں چھ میں سے تین اُمیدواروں کو حتمی فہرست میں شامل کیا جائے گا جس میں سے بعد میں کسی ایک کا انتخاب کیا جائے گا۔

انعام کی حق دار شخصیت کا اعلان 26 اکتوبر کو کیا جائے گا جب کہ ایوارڈ دینے کی تقریب دسمبر میں ہو گی۔

پاکستان کے قانون کے مطابق توہینِ مذہب کے جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا موت ہے اور اس قانون کے تحت متعدد افراد کو سزا سنائی جا چکی ہے۔

لیکن سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر حتمی فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے بیشتر سزاؤں پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG