رسائی کے لنکس

logo-print

یورپی ممالک کا پناہ گزینوں کے لیے ایک ارب ڈالر امداد کا وعدہ


یورپی ملکوں کے رہنما پناہ گزینوں اور تارکین وطن کی آمد کو روکنے کے لیے مسلسل کوششیں اور صلاح و مشورے کر رہے ہیں۔

یورپی یونین کے رہنماؤں نے تارکین وطن کی بڑی تعداد میں آمد کو روکنے کے لیے مشرق وسطیٰ میں شام کے پناہ گزینوں کی مدد کے لیے ایک ارب ڈالر سے زیادہ کے فنڈز دینے کا وعدہ کیا ہے۔

دوسری جانب خود یورپ میں اس بارے میں اختلافات بدستور موجود ہیں کہ ان تارکین وطن کا کیا جائے جو پہلے ہی یورپی ممالک میں پہنچ چکے ہیں۔

کروئیشیا اور سربیا کی سرحد کے درمیان مسلمانوں کے مذہبی تہوار عید الاضحیٰ کے موقع پر ہزاروں پناہ گزینوں اور تارکین وطن نے نماز عید ادا کی۔

یورپی ملکوں کے رہنما پناہ گزینوں اور تارکین وطن کی آمد کو روکنے کے لیے مسلسل کوششیں اور صلاح و مشورے کر رہے ہیں۔

ایک ہنگامی اجلاس کے بعد یورپی یونین نے مشرق وسطیٰ میں شام کے باشندوں کی مدد کے لیے اقوام متحدہ اور دوسرے امدادی اداروں کو ایک ارب اور دس کروڑ ڈالر دینے کا وعدہ کیا۔

یورپی رہنماؤں نے قریبی تعاون اور سرحدوں پر کنٹرول سخت کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ پناہ گزینوں اور تارکین وطن کا سب سے بڑا ریلا ابھی آنا باقی ہے۔ اس لیے ضرورت اب اس امر کی ہے کہ اپنے دروازے اور کھڑکیاں کھلے رکھنے کی پالیسی کو درست کیا جائے۔

یورپی یونین کے کچھ ملکوں نے جرمنی پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ ہزاروں پناہ گزینوں کو قبول کرنے کی پیشکش کر کے اس بحران کو مزید بھڑکا رہے ہیں۔

جمعرات کے روز جرمنی کی پارلیمنٹ میں اپنی تقریر کے دوران چانسلر آنگیلا مرخیل نے اس بارے میں ایک سخت موقف اختیار کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے یورپی اتحادیوں سے ان تنازعات کے حل میں مدد کی اپیل کی جو پناہ گزینوں کے اس بحران کا بنیادی سبب ہیں۔

جرمن چانسلر نے کہا کہ یہ کام صرف بحر اوقیانوس کے پار ہمار ے شراکت داروں، یعنی امریکہ اور اس کے ساتھ ساتھ روس اور مشرق وسطیٰ کے خطے کے ملکوں کی مدد سے ہی انجام پا سکتا ہے۔

یورپی یونین کے رکن ملکوں کے درمیان ایک لاکھ بیس ہزار پناہ گزینوں کی ازسرنو تقسیم کے منصوبوں کو سلوواکیا کی جانب سے ایک قانونی چیلنج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ توقع کی جا رہی ہے کہ صرف اس سال کے دوران پناہ کے متلاشی تقریباً دس لاکھ افراد جرمنی پہنچیں گے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین ’یو این ایچ سی آر‘ کے ترجمان آندریج مییسک کا کہنا ہے کہ ’’یہ بنیادی طور پر پناہ گزینوں کا بحران ہے، نہ کہ تارکین وطن کا۔ وہ افراد جو خاص طور پر اس سال بحیرہ روم کو عبور کر کے آ رہے ہیں، ان کی ایک بہت بڑی اکثریت شامی، افغانی اور عراقی باشندوں پر مشتمل ہے۔ اس سال یورپ پہنچنے والے تمام لوگوں کی اسیّ فی صد تعداد ان ملکوں سے آ رہی ہے جو پناہ گزین پیدا کرنے والے ملک ہیں۔‘‘

پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یورپ کسی طویل مدتی حل پر متفق ہونے سے بہت دور ہے کیونکہ یورپی یونین کے رکن ملکوں کے درمیان اس مسئلے پر گہرے اختلافات بدستور موجود ہیں۔

XS
SM
MD
LG