رسائی کے لنکس

logo-print

سزائے موت پر عملدرآمد کا فیصلہ 'قابل افسوس' ہے: یورپی یونین


یورپی یونین نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ پاکستانی عوام کی طرف سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کی تمام صورتوں سے نمٹنے کے عزم کو سراہتی ہے لیکن اسے سزائے موت پر عملدرآمد کے حکومتی فیصلے پر "افسوس ہے۔"

پاکستان میں یورپی یونین کے دفتر سے جاری ایک بیان میں سزائے موت پر عمل درآمد کے حکومت کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام دہشت گردی کے خلاف ایک موثر ہتھیار نہیں لہذا اس پر عملدرآمد کے فیصلے کو جلد از جلد واپس لیا جائے۔

سزائے موت پر عملدرآمد شروع کرنے کے پاکستانی حکومت کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے یورپی یونین نے ایک بیان میں کہا کہ وہ سزائے موت کی ہر صورت میں مخالفت کے اپنے موقف پر قائم ہے۔

ایک بیان میں پشاور واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ یورپی یونین کمیشن پاکستانی عوام کی طرف سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کی تمام صورتوں سے نمٹنے کے عزم کو سراہتی ہے لیکن اسے سزائے موت پر عملدرآمد کے حکومتی فیصلے پر "افسوس ہے۔"

پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں 16 دسمبر کو ایک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد حکومت نے جیلوں میں قید سزائے موت کے مجرموں کی سزا پر عملدرآمد کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد اب تک کم ازکم چھ مجرموں کو پھانسیاں دی جا چکی ہیں۔

پاکستان میں 2008ء سے سزائے موت پر عملدرآمد پر پابندی چلی آ رہی تھی۔ ملک کی جیلوں میں تقریباً آٹھ ہزار قیدی ایسے ہیں جنہیں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

انسانی حقوق کی بعض مقامی و بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے بھی سزائے موت پر عملدرآمد کے فیصلے کی مخالفت اور تنقید دیکھنے میں آئی ہے۔

لیکن ملک میں اکثریتی سماجی و سیاسی حلقوں اور حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق دی جانے والی سزاؤں پر عملدرآمد ہی سے معاشرے میں جرائم پیشہ کے لیے خوف پیدا کیا جاسکتا ہے۔

عہدیداروں کے بقول سزاؤں پر عملدرآمد کے فیصلے کے بعد ایسے تمام قیدی جنہیں دہشت گردی کے جرم میں یہ سزا سنائی گئی انھیں پھانسی دی جائے گی۔

قبل ازیں امریکہ نے سزائے موت پر عملدرآمد کے فیصلے کو پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG