رسائی کے لنکس

logo-print

یورپی یونین کے اجلاس میں شام پر اہم پیش رفت متوقع


فرانس نے کہا ہے کہ اگر دیگر ممالک کے ساتھ اسلحہ بھیجنے کا معاہدہ نہیں بھی طے پاتا تو وہ برطانیہ کے ساتھ مل کر شام کے باغیوں کی مدد کے لیے کام کرنے کو تیار ہے۔

شام میں حکومت مخالف تحریک کو شروع ہوئے جمعہ کو دوسال مکمل ہوگئے ہیں اور اس موقع پر برسلز میں ہونے والے یورپی یونین کے اجلاس میں توقع ہے کہ شام کے باغیوں کو حکومت کے خلاف مسلح کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ زیر بحث آئے گا۔

یورپی یونین نے اپنے رکن ممالک پر شام کی حزب مخالف کو اسلحہ فراہم کرنے پر پابندی عائد کررکھی ہے جو کہ مئی میں ختم ہورہی ہے۔

فرانس نے کہا ہے کہ اگر دیگر ممالک کے ساتھ اسلحہ بھیجنے کا معاہدہ نہیں بھی طے پاتا تو وہ برطانیہ کے ساتھ مل کر شام کے باغیوں کی مدد کے لیے کام کرنے کو تیار ہے۔

فرانس کے وزیرخارجہ لوئرنٹ فابیوس نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ ان کا ملک اور برطانیہ چاہتے ہیں یورپی یونین پابندی ختم کرنے کے لیے ایک ہنگامی اجلاس بلائے اور یہ مذاکرات اس ماہ کے اختتام سے پہلے ہونے چاہیئں۔

بدھ کو روسی وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نے شام کے باغیوں کو مسلح کرنے کے بارے میں بات چیت کو مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی ہوگا۔

گزشتہ ماہ کے اواخر میں امریکہ کے صدر براک اوباما نے شام کی حزب مخالف کے لیے 6 کروڑ ڈالر کی اضافی امداد اور پہلی بار باغیوں کے لیے غیر مہلک امداد کا اعلان کیا تھا۔

دریں اثناء انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں میں شام کی سرکاری اور باغی فورسز دونوں ہی نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور زیر حراست افراد کے ساتھ غیر انسانی رویہ اپنانے کے ساتھ ساتھ ان کی ہلاکتوں کے بھی ذمہ داری ہیں۔
XS
SM
MD
LG